ظہران ممدانی کا انتخاب: امریکہ کی داخلی بے چینی اور ایک سوشلسٹ امیدوار کی جیت

ایڈووکیٹ نور محمد مری

امریکی سیاسی نظام ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان جھولتا رہا ہے- بین الاقوامیت (Internationalism) اور تنہائی پسندی (Isolationism)، پہلی عالمی جنگ سے قبل امریکہ اپنے اندرونی معاملات تک محدود تھا اور یورپی تنازعات سے لاتعلق رہنے کی پالیسی پر قائم تھا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد جب امریکہ ایک بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرا، تو اس کی ترجیحات تبدیل ہوئیں اور نیٹو، سیٹو اور سینٹو جیسے اتحاد تشکیل دیے گئے، جن کا مقصد مختلف خطّوں میں امریکی مفادات کا تحفظ تھا۔ یہ تقسیم آج بھی امریکی سیاست میں نمایاں ہے: ڈیموکریٹس عمومی طور پر بین الاقوامیت کے حامی، جبکہ ریپبلکن “امریکہ سب سے پہلے” جیسے تنہائی پسندانہ رجحانات کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کی توجہ خارجہ پالیسی سے ہٹ کر گھریلو مسائل پر مرتکز ہو گئی ہے۔ آج کا ووٹر نیٹو یا جنوبی بحیرۂ چین سے زیادہ کرائے، صحت، نوکری اور مہنگائی کے مسائل سے متاثر ہوتا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس کے تناظر میں ظہران ممدانی کی سیاسی کامیابی کو سمجھنا ضروری ہے. انہوں نے شناختی سیاست یا عالمی کردار کے بجائے عوام کی روزمرہ پریشانیوں-مہنگے کرائے، بدحالی کا شکار نقل و حمل، صحت کی سہولتوں اور معاشی دباؤ-کو اپنی مہم کا محور بنایا.

دلچسپ امر یہ ہے کہ ممدانی کی حکمتِ عملی نظریاتی طور پر ٹرمپ کی 2016 کی مہم سے مختلف ہونے کے باوجود انتخابی انداز میں اس سے مشابہ تھی۔ ٹرمپ نے سرحدی بندش، تجارتی معاہدوں کی ازسرِ نو تشکیل اور بیرونی جنگوں کے خاتمے جیسے نعروں کے ذریعے معاشی بے چینی کو مخاطب کیا، جبکہ ممدانی نے سماجی انصاف، کرایہ جات میں اصلاحات، امیروں پر ٹیکس اور عوامی خدمات کے فروغ جیسے سوشلسٹ رجحانات کو اپنایا۔ لیکن دونوں کی کامیابی کی بنیاد ایک ہی تھی: عوامی معاشی تکلیف.

ممدانی خود کو سوشلسٹ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ داری نے معاشرے میں شدید عدم مساوات پیدا کر دی ہے. ایک طرف ارب پتی طبقہ اور دوسری طرف بے گھری، قرض اور صحت کے بحران کا شکار عوام۔ وہ برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ جیسی تحریکوں سے متاثر ہیں۔ تاہم ان کا سوشلزم کوئی انقلابی منصوبہ نہیں بلکہ معاشرتی توازن کی بحالی کا مطالبہ ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ امریکی معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی نہیں بلکہ سیکولر اور لبرل بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کسی بھی مذہب یا پس منظر کے فرد کو عوامی عہدہ حاصل کرنے پر کوئی آئینی قدغن نہیں۔ اس لیے ممدانی کے مسلمان ہونے نے ان کے خلاف رکاوٹ پیدا نہیں کی، نہ ہی ووٹرز نے انہیں مذہب کی بنیاد پر منتخب کیا. انہوں نے ووٹ اس لیے حاصل کیا کیونکہ انہوں نے عوام کے معاشی درد کو سمجھا اور اس پر بات کی یہی وہ سیاسی ماحول ہے جس نے باراک اوباما، کیتھ ایلیسن، الہان عمر، راشدہ طلیب اور اب ظہران ممدانی جیسے رہنماؤں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔

ممدانی کی یہ سیاسی پیش رفت امریکی تاریخ کے اس رجحان سے بھی مطابقت رکھتی ہے جہاں معاشی بحرانوں کے دوران عوام ان رہنماؤں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو گھریلو مسائل پر مرکوز پروگرام پیش کرتے ہیں۔ 1932 میں روزویلٹ نے کسادِ عظیم کے زمانے میں نیو ڈیل کا وعدہ کیا، جبکہ 2016 میں ٹرمپ نے خالی فیکٹریوں اور زوال پذیر معیشت کے غم زدہ ووٹرز کی توجہ حاصل کی۔ ممدانی اسی تاریخی روایت کا نیا باب ہیں. اگرچہ زبان، طبقہ اور نظریات مختلف ہیں، مگر عوامی درد وہی ہے۔

امریکہ کی موجودہ حالت بھی یہی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بظاہر مضبوط نظر آنے کے باوجود گہری معاشی بے چینی کا شکار ہے۔ صحت کی لاگت آسمان کو چھو رہی ہے، نوجوان قرضوں میں دبے ہوئے ہیں، اجرتیں ساکن ہیں اور رہائشی بحران بڑھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں ممدانی جیسے سیاست دان، جو براہ راست عوام کی اذیت کو مخاطب کرتے ہیں، نمایاں ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی کامیابی کوئی انقلاب نہیں ہے۔ امریکہ اب بھی کارپوریشنوں، مالیاتی اداروں اور لابیوں کے زیرِ اثر ہے، اور حقیقی تبدیلی ایک مشکل جدوجہد ہوگی.

دنیا اس الیکشن کو اس لیے دیکھ رہی ہے کہ یہ امریکی جمہوریت کے اندر گہرے رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی عوام عالمی جنگوں، بیرونی مداخلتوں اور دنیا کی “پولیسنگ” سے تھک چکے ہیں. ان کی دلچسپی اب صرف اس سوال پر ہے کہ کیا وہ اپنے ہی ملک میں ایک باعزت زندگی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ رہائش، صحت، اجرت اور عوامی سہولیات امریکی سیاست کے نئے معرکے ہیں۔ ممدانی اسی میدان میں امید کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔

لیکن اس امید کے ساتھ حقیقت پسندی بھی ضروری ہے۔ سرمایہ دارانہ ڈھانچہ، وال اسٹریٹ کا اثر، لابیوں کی طاقت اور اندرونی سیاسی مزاحمت ممدانی کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہوں گی۔ اگر وہ عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکے تو وہی ووٹر ان سے منہ موڑ سکتے ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا۔

بالآخر، ممدانی کی فتح اس حقیقت کی علامت ہے کہ امریکی سیاست میں کامیابی مذہب، نسل یا بیرونی پالیسی کے بجائے عوامی معاشی مسائل کو سمجھنے سے ملتی ہے۔ انہوں نے کرائے، انصاف اور عوامی سہولیات کو مذہبی شناخت اور عالمی تنازعات پر ترجیح دی. اور یہی ان کی جیت کا راز ہے.

خواہ وہ کامیاب ہوں یا ناکام، ان کا انتخاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امریکہ جیسی عظیم طاقتیں بھی آخرکار اسی سوال پر واپس آتی ہیں: دنیا پر حکومت کیسے کرنی ہے نہیں، بلکہ خود پر حکومت کیسے کرنی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں