کراچی(انڈس ٹربیون) بلاول ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارٹی آئین میں صوبائی مالیاتی شیئر سے متعلق مجوزہ ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت حاصل آئینی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پیپلز پارٹی کسی بھی ایسی تجویز کی حمایت کیلئے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے اختیارات اور محکموں کو واپس لینے سے متعلق پروپوزل کی بھی پارٹی جانب سے کوئی تائید نہیں کی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’’ہم صرف آئین کے آرٹیکل 243 میں تجویز کردہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، جس کے تحت جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کو فیلڈ مارشل کا نیا عہدہ دینے کی بات کی گئی ہے۔‘‘
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق سی ای سی نے دیگر تمام آئینی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ باقی نکات پر مزید غور کل نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔
آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ معاملہ میثاقِ جمہوریت کے تناظر میں انتہائی اہم ہے، اور پیپلز پارٹی اس پر بھی چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی کے اصول سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے: ‘‘صوبائی حقوق، مالیاتی خودمختاری اور آئینی توازن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔’’