اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد میں پیر کے روز سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا، جبکہ اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ بل کے حق میں 64 ووٹ پڑے، جن میں اپوزیشن کے دو منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے۔
قانونی اور سیاسی حلقوں میں کئی ہفتوں سے بحث کا باعث بننے والا یہ بل وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، جبکہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ شق وار ووٹنگ کے بعد دروازے بند کر کے تقسیم کے طریقۂ کار کے تحت دوبارہ ووٹنگ ہوئی۔
ایوان میں ہنگامہ آرائی اور واک آؤٹ
بل کی پیشی سے قبل اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کر دیا۔ ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر وزیرِ قانون کی جانب اچھالیں اور حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

کچھ دیر بعد بیشتر اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر نکل گئے، جس کے بعد حکومت کو بل کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔
کمیٹی میں منظور شدہ تبدیلیاں
بل کو گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چند ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے ایوان کو بتایا کہ مجوزہ وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے قیام، اس کی تشکیل اور ججوں کی اہلیت سے متعلق دفعات میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ترمیم کے تحت:
وفاقی آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہو گی،
اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا،
ہائی کورٹ میں پانچ سال کی سروس رکھنے والا جج اس عدالت میں نامزد ہو سکے گا،
سپریم کورٹ سے آنے والے ججوں کی سینیارٹی برقرار رہے گی،
نئے تعینات ہونے والوں کی سینیارٹی ان کی تقرری کی تاریخ سے شمار ہوگی۔
کمیٹی نے ججوں کی ٹرانسفر، سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے طریقہ کار اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق چند نکات میں بھی وضاحتیں شامل کیں۔ جے سی پی میں اسپیکر اب خاتون، غیر مسلم یا ٹیکنوکریٹ—تین میں سے کسی ایک کو نامزد کر سکیں گے۔
فوجی ڈھانچے سے متعلق ترامیم
بل میں فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی حیثیت دینے اور تینوں افواج میں پانچ ستارہ جنرل کے لیے جگہ پیدا کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عسکری ڈھانچے کی بہتری اور دفاعی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر سیف ابڑو کی حمایت اور استعفیٰ
رائے شماری کے فوراً بعد تحریک انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استعفیٰ دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’صرف جنرل عاصم منیر کی خاطر‘‘ بل کے حق میں ووٹ دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے جواب میں کہا کہ ’’ہم آپ کو دوبارہ سینیٹر بنائیں گے‘‘۔

وزیرِ اعظم نے استثنیٰ کی تجویز مسترد کر دی
بل کے ابتدائی مسودے میں وزیرِ اعظم کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ دینے کی تجویز شامل تھی۔ تاہم وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واپسی پر اس شق کو فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک منتخب وزیرِ اعظم کو قانون اور عوام، دونوں کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ رہنا چاہیے‘‘۔
آگے کا مرحلہ: قومی اسمبلی میں رائے شماری
سینیٹ سے منظوری کے بعد بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ ایوانِ زیریں میں 336 میں سے 233 ارکان حکومتی اتحاد کے پاس ہیں، جو بل کی منظوری کے لیے کافی تصور کیے جا رہے ہیں۔
پس منظر
27ویں آئینی ترمیم کا مقصد وفاقی آئینی عدالت کا قیام، ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں، فوجی ڈھانچے میں انتظامی ترامیم اور مختلف آئینی شقوں میں وضاحت شامل کرنا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کے اختیارات محدود کرنے اور طاقت کے توازن کو بدلنے کی کوشش ہے، جسے وہ کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔
بل ملک کی حالیہ سیاسی فضا میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والی قانون سازی ثابت ہو رہا ہے اور اگلے مرحلے میں قومی اسمبلی کا ووٹ اس بحث کو مزید تیز کرے گا۔
ترمیم کی حمایت پر جے یو آئی سینیٹر جماعت سے خارج
جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سینیٹر بہرہ مند تنگی کو 27ویں آئینی ترمیم کے حکومتی بل کی حمایت سے متعلق وضاحت طلب کرنے کے بعد پارٹی سے خارج کر دیا ہے.

نوٹیفکیشن کے مطابق جے یو آئی پاکستان کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطاالرحمٰن اور صوبائی امیر بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالشکور نے مرکزی جماعت سے سفارش کی تھی کہ بہرہ مند تنگی نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی، لہٰذا ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے.
مرکزی جماعت نے سفارش منظور کرتے ہوئے سینیٹر بہرہ مند تنگی کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں جے یو آئی پاکستان کے تمام عہدوں اور تنظیمی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا ہے.