نئی دہلی میں کار دھماکا، 8 ہلاک اور 20 زخمی

نئی دہلی(ویب ڈیسک) عالمی خبر رساں ادارے روٹرز کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تاریخی لال قلعہ کے قریب کار میں دھماکے سے کم از کم 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکا پیر کی شام ایک کار میں اس وقت ہوا جب وہ ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی تھی۔ دھماکے کی شدت سے قریبی گاڑیاں اور رکشے بھی جل کر تباہ ہوگئے۔

دھماکا شام 7 بجے کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 30 سے 40 ایمبولینسز موقع پر پہنچیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ واقعے کی “تمام زاویوں سے تحقیقات” کی جارہی ہیں اور جلد نتائج سامنے لائے جائیں گے۔ مقامی میڈیا کے مطابق کار کے سابق مالک، سلمان نامی شخص، کو حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم تفصیلات تاحال واضح نہیں۔

عینی شاہدین نے دھماکے کو انتہائی شدید قرار دیا۔ ایک خاتون، سُمن مشرا، نے بتایا کہ وہ میٹرو اسٹیشن کی سیڑھیاں اتر رہی تھیں کہ زور دار دھماکا ہوا اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ ایک دکاندار ولی الرحمٰن نے کہا کہ جھٹکے کی شدت سے وہ گر پڑے۔

دھماکے کے بعد لال قلعہ اور آس پاس کے علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔ بھارت کے بڑے ریلوے اسٹیشنز، مالیاتی مرکز ممبئی اور پڑوسی ریاست اتر پردیش میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔

امریکی سفارتخانے نے دہلی میں موجود اپنے شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ ریڈ فورٹ اور سیاحتی مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں۔

لال قلعہ، جو شاہجہان کے دور کی شاندار مغلیہ تعمیرات میں سے ایک ہے، دہلی کی اہم ترین تاریخی جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔ شہر میں اس سے قبل 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں متعدد بم دھماکے ہو چکے ہیں، جبکہ 2011 میں دہلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والا دھماکا آخری بڑا واقعہ تھا۔

پولیس اور سیکیورٹی ادارے علاقے کا مکمل محاصرہ کیے ہوئے ہیں جبکہ تحقیقات جاری ہیں.

اپنا تبصرہ لکھیں