“آئینِ پاکستان 27ویں ترمیم بل 2025 کو وزیرِاعظم کی سفارش پر منظوری دی جاتی ہے” صدر نے ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کے روز متنازع 27ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے، جس کے ساتھ ہی یہ ترمیم باقاعدہ طور پر قانون بن گئی ہے.

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ: “آئینِ پاکستان (ستائیسویں ترمیم) بل 2025 کو وزیرِاعظم کی سفارش پر منظوری دی جاتی ہے۔”

پارلیمان میں شور شرابہ اور اختلافات

یہ ترمیم ایک روز قبل قومی اسمبلی سے منظور کی گئی تھی، جس دوران ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور حزبِ اختلاف کی واک آؤٹ دیکھی گئی.
بل میں مجموعی طور پر 59 شقیں شامل ہیں جن میں سے آٹھ کو آخری مسودے میں تبدیل کیا گیا۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر چیف جسٹس آف پاکستان سے متعلق ہیں.

بل کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے قیام اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کی بھی تجویز دی گئی ہے.

حزب اختلاف کا ردِعمل

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ترمیم کی منظوری کو “جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل” قرار دیا.

ان کا کہنا تھا کہ “آپ نے جلد بازی میں یہ ترمیم لا کر جمہوری نظام اور آئینی توازن کو ڈبو دیا ہے. ”

اسی طرح تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نامی اپوزیشن اتحاد نے اس ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے “انتہائی خطرناک اور سیاہ ترین تبدیلی” قرار دیا.

“ضمیر کے مطابق ووٹ دینا غداری نہیں”

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، پارٹی سے انحراف کرنے والے رکن کے خلاف ریفرنس بھیجنے سے قبل پارٹی سربراہ کو متعلقہ رکن کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہے.
انہوں نے کہا کہ “اگر کسی رکن کے خلاف نااہلی کا حکم آ جائے تو اسے سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہوگا، جب تک یہ عمل مکمل نہ ہو، رکن نااہل نہیں ہوتا. ”

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایوان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ضمیر کے مطابق ووٹ دینا غداری نہیں بلکہ جمہوریت کی روح ہے. ”
انہوں نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے احمد خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “یہی جمہوریت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں.”

پس منظر

یاد رہے کہ حکومت نے تقریباً ایک سال بعد یہ نئی ترمیم متعارف کرائی ہے۔ اس سے قبل 26ویں آئینی ترمیم اکتوبر 2024 میں پارلیمان سے منظور ہوئی تھی، جو خود بھی تنازع کا شکار رہی.

26ویں ترمیم کے دوران اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ ان کے سات ارکان کو زبردستی حمایت پر مجبور کیا گیا، جبکہ بی این پی-مینگل کے دو سینیٹرز نے بھی پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ دیا تھا.

رواں ماہ کے آغاز پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ترمیمی بل کے لیے ان کی جماعت کی حمایت مانگی ہے.

8 نومبر کو یہ بل وفاقی کابینہ سے منظوری کے فوراً بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا، جہاں 10 نومبر کو 64 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور ہوا. اپوزیشن ارکان نے اس موقع پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا.

12 نومبر کو قومی اسمبلی نے اس بل کو معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کیا، جبکہ 13 نومبر کو سینیٹ نے ان ترامیم کی توثیق کر دی.

اور آج، صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد 27ویں آئینی ترمیم اب آئینِ پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں