اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی نے جمعرات کو مسلح افواج سے متعلق تین اہم ترمیمی بلز منظور کر لیے، جس کے نتیجے میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدتِ ملازمت چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے طور پر ازسرِنو شروع ہونے جا رہی ہے.
یہ ترامیم اُس وقت پیش کی گئیں جب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کرتے ہوئے اسے قانون کا درجہ دے دیا.
دفاعی قوانین میں بڑی تبدیلی
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پاکستان آرمی ایکٹ (ترمیمی بل) 2025، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی بل) 2025 اور پاکستان نیوی (ترمیمی بل) 2025 ایوان میں پیش کیے، جنہیں اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔
اسی دوران وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر (ترمیمی بل) 2025 پیش کیا، جو بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا.
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ “یہ نئے قوانین نہیں بلکہ موجودہ قوانین میں ترمیم ہیں تاکہ انہیں 27ویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔”
چاروں بل صرف نو منٹ میں ایوان سے منظور کیے گئے.
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نئی حیثیت
ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے پر فائز کرنے کے بعد ان کی مدتِ ملازمت دوبارہ شروع ہوگی.
یہ عہدہ تینوں افواج-آرمی، نیوی اور ایئر فورس—کی مشترکہ قیادت کے طور پر قائم کیا گیا ہے.
رواں برس مئی میں بھارت کے خلاف جنگ میں قیادت کے دوران فتح کے بعد، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت میں کردار کو فیصلہ کن قرار دیا گیا تھا.
مدتِ ملازمت اور قانون
ستمبر میں وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی موجودہ مدت 2027 میں ختم ہوگی، اور توسیع سے متعلق فیصلہ اُس وقت کیا جائے گا.
تاہم، رواں ماہ کے آغاز میں وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی تھی کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت پہلے ہی قانون میں طے ہے، اس کے لیے کسی نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں.
پاکستان آرمی ایکٹ کی شق 8C کے مطابق،
> “جنرل کے لیے مقررہ سروس لمٹ اور ریٹائرمنٹ ایج، آرمی چیف پر لاگو نہیں ہوگی۔ آرمی چیف اپنی تقرری، دوبارہ تقرری یا توسیع کے دوران 64 سال کی زیادہ سے زیادہ عمر تک خدمات انجام دے سکتا ہے۔ اس مدت کے دوران وہ جنرل کے طور پر اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔”