ہانگ کانگ(ویب ڈیسک) جپان کے دارالحکومت ہانگ کانگ کے علاقے تائی پو میں واقع وانگ فُک کورٹ ہاؤسنگ کمپلیکس میں بدھ کی شام لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی مچا دی۔ جمعرات تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 75 ہو گئی جبکہ 250 سے زائد افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 76 ہے جن میں 11 فائر فائٹر بھی شامل ہیں۔
آگ کے باعث چار رہائشی ٹاور مکمل طور پر جل کر خاک ہو گئے، جبکہ تین بلاکس میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ایک عمارت آگ سے محفوظ رہی۔

غفلت کے سنگین الزامات اور گرفتاریاں
ہانگ کانگ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ عمارت کی بحالی کے دوران استعمال ہونے والی غیر محفوظ اسکیف فولڈنگ، پلاسٹک شیٹس اور جھاگ (فوم) مواد نے آگ کے پھیلاؤ کو خطرناک حد تک تیز کیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ای لین چُنگ کے مطابق:
> “ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ متعلقہ کمپنی کی سنگین غفلت نے آگ کو بےقابو پھیلنے دیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔”
تعمیراتی کمپنی کے دو ڈائریکٹر اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بعد ازاں پولیس نے Prestige Construction and Engineering Company کے دفتر پر چھاپہ مار کر اہم ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا۔
حکومت نے اس کمپنی کو عمارت کا رجسٹرڈ ٹھیکیدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آگ سے متعلق عمارتوں کے قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آتشزدگی کیسے پھیلی؟
ابتدائی رپورٹس کے مطابق:
عمارتوں کے گرد لگائے گئے بانس کے اسکیف فولڈنگ نے آگ کو اوپر کی جانب تیزی سے منتقل کیا۔
حفاظتی جالیوں اور شیٹس میں آتش گیر مواد استعمال کیا گیا۔
ایک عمارت میں لگا جھاگ نما فوم کھڑکیوں کو سیل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔
تیز ہوا نے صورتحال مزید خراب کر دی۔
بانس اسکیف فولڈنگ ہانگ کانگ میں عام طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم حکومت پہلے ہی اسے مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
صورتحال گرین فیل ٹاور سانحے جیسی؟
مقامی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر لوگ اس سانحے کا تقابل 2017 کے لندن کے گرین فیل ٹاور حادثے سے کر رہے ہیں جس میں 72 افراد ہلاک ہوئے تھے اور جس کی وجہ بھی ناقص بیرونی کلڈنگ کو قرار دیا گیا تھا۔
متاثرین کیلئے شیلٹرز قائم، علاقہ مکینوں کی آہ و بکا
آگ کے بعد 900 سے زائد افراد رات گئے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہوئے۔ کئی کمیونٹی ہالز مکمل بھر چکے ہیں۔
متاثرہ رہائشیوں کے جذبات دل دہلا دینے والے ہیں:
71 سالہ ایک شخص اپنی اہلیہ کے اندر پھنس جانے پر زار و قطار روتا رہا۔
70 سالہ خاتون چُو نے کہا کہ وہ اپنے قریبی دوستوں سے رابطہ نہیں کر پا رہیں۔
66 سالہ ہیر ی چیونگ نے بتایا کہ انہوں نے دھماکے کی آواز سنی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا پورا بلاک شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔
چینی صدر کا نوٹس
چین کے صدر شی جن پنگ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل ریسکیو آپریشن اور نقصان کم سے کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پس منظر
تائی پو ہاؤسنگ اسٹیٹ میں 8 ٹاورز، 31 منزلہ عمارتیں، اور تقریباً 4,800 رہائشی موجود ہیں۔ واقعے کے وقت تمام عمارتوں میں تعمیراتی اور تزئین و آرائش کا کام جاری تھا۔
انتظامیہ پر سوالات، عوام میں غم و غصہ
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں مبینہ طور پر تعمیراتی ورکرز کو اسکیف فولڈنگ پر سگریٹ پیتے دیکھا گیا، جس نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
تعمیراتی حادثات پر کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ رواں سال بھی اسکیف فولڈنگ سے متعلق کئی آتشزدگیاں سامنے آ چکی ہیں۔