موسمیاتی تبدیلی: چار بڑے سیلابوں میں 4700 افراد جاں بحق، اٹھارہ ہزار زخمی اور معذور ہوئے: وزیر ماحولیات

اسلام آباد (انڈس ٹربیون) وفاقی وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کے زیرِ اہتمام “Climate Resilience: Who Pays the Price for Delay?” کے موضوع پر پینل ڈسکشن میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات، معاشی نقصانات اور عالمی سطح پر موسمیاتی ناانصافی پر تشویش کا اظہار کیا.

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار بڑے سیلابوں میں 4700 انسانی جانوں سے محروم ہوا جبکہ 18 ہزار سے زائد افراد زخمی یا معذور ہوئے۔ سیلابی آفات کے نتیجے میں 30 لاکھ شہری بے گھر ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تھی۔

“موسمیاتی تبدیلی کی قیمت صرف پیسہ نہیں، انسانی المیے بھی ہیں”

وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی قیمت صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ یہ جان، معذوری، صحت اور تعلیم کو بھی سنگین طور پر متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں انسانی نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔

سالانہ 9.5 فیصد جی ڈی پی کا نقصان

ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ پاکستان سیلابوں اور انتہائی موسمی واقعات کے باعث ہر سال اپنی معیشت کا 9.5 فیصد حصہ کھو دیتا ہے۔ اس بھاری معاشی بوجھ نے ملک کی ترقی کی رفتار کم جبکہ غربت میں اضافہ کیا ہے۔

گلیشیئر پگھلاؤ سے دریائی نظام متاثر

انہوں نے بتایا کہ ہمالیائی گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ بارشوں کے پیٹرن، دریاؤں کے بہاؤ اور نہری نظام کو تبدیل کر رہا ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار، پانی کی دستیابی اور خوراک کا تحفظ شدید خطرات سے دوچار ہے۔

پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ 1% سے بھی کم

وفاقی وزیر نے عالمی موسمیاتی نظام میں ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کاربن اخراج میں حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ ہمارے دو پڑوسی ممالک مجموعی طور پر 40 فیصد اور دنیا کے صرف دس ممالک 70 فیصد عالمی اخراج کے ذمہ دار ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی خطرات سے دوچار دنیا کے سب سے غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔

“تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں”

ڈاکٹر مصدق ملک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی انصاف کے تقاضوں کے تحت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا نے مل کر فوری اقدامات نہ کیے تو معاشی و انسانی نقصان ایسا ہوگا جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں