جماعت اسلامی سے ایران تک

جمشید اقبال

یہ مسئلہ محض آج کا نہیں، یہ ایک پرانا اور بار بار دہرایا جانے والا تاریخی المیہ ہے کہ جب مذہبی جماعتیں اور فرقہ وارانہ شناختیں عوام کی بجائے طاقت کے استحصالی مراکز، ریاستوں اور بندوقوں کے ساتھ کھڑی ہو جائیں تو وہ دراصل اپنے ہی ماننے والوں کے مستقبل پر دائمی زوال کی مہر ثبت کر دیتی ہیں۔

پاکستان میں جماعتِ اسلامی کی تاریخ اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ جماعت نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ وہ “اسلامی نظام” کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے مگر عملی سیاست میں اس کی ترجیحات اکثر عوامی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز، عسکری بیانیے اور مسلح گروہ رہے ہیں۔ افغانستان کی جنگ ہو یا کشمیر کا معاملہ، جماعت نے عسکریت پسندوں کو عوام پر ترجیح دی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ افغانستان میں افغان بچا، نہ پاکستان میں عام پاکستانی محفوظ رہا۔ جو نسلیں تعلیم، صحت اور امن کی حقدار تھیں، وہ لاشوں، مہاجر کیمپوں اور نفرتوں کے بیچ جوان ہوئیں۔ جماعت نے ریاست کو مضبوط کرنے کا خواب بیچا، مگر معاشرہ کمزور کرکے توڑ دیا۔

یہی المیہ تاریخ آج ایک اور شکل میں شیعہ دنیا میں دہرائی جا رہی یے۔ پاکستان اور خطے کے کئی شیعہ حلقے ایران کے عوام کے بجائے ایرانی ریاست اور اس کے حکمرانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں حالانکہ ایران کے اندر لوگ سڑکوں پر اس لیے ہیں کہ وہ جان چکے ہیں کہاگر یہ نظام باقی رہا تو ان کی آنے والی نسلیں بھی وہی خوف، جبر، غربت اور گھٹن وراثت میں پائیں گی جو وہ خود جھیل رہے ہیں۔

تاریخ یہاں بھی سبق دیتی ہے۔ صفوی ایران سے لے کر نام نہاد جدید ایرانی انقلاب تک، جب بھی مذہب کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑ دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ عقیدہ بھی محفوظ نہ رہا اور انسان بھی کچلا گیا۔
1979ء کے انقلاب کے وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ یہ “مستضعفین” کی حکومت ہوگی، مگر چند دہائیوں میں وہی انقلاب اپنے بچوں کو کھانے لگا۔ آج جو نوجوان ایران میں مارے جا رہے ہیں، وہ مغرب کے ایجنٹ نہیں، وہ اسی نظام کے پیدا کردہ بچے ہیں جو اب سانس لینے کے لیے ہوا مانگ رہے ہیں۔

یہ مسئلہ فرقے یا مسلک کا نہیں، گروہی نفسیات کا ہے۔
جب کوئی گروہ اپنے وجود کو کسی ریاست، کسی نظریے یا کسی “مقدس اقتدار” سے جوڑ لیتا ہے تو اس کے لیے عام انسان ثانوی ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ یہ سوال پوچھنا ہی چھوڑ دیتا ہے ” کیا یہ نظام انسان کو زندہ رہنے دے گا؟ کیا یہ خوف کم کر رہا ہے یا بڑھا رہا ہے؟ کیا یہ آنے والی نسلوں کے لیے کوئی راستہ بنا رہا ہے؟

جماعتِ اسلامی نے یہی غلطی کی۔ اس نے “اسلام” کو عام مسلمانوں کی بجائے ایک سیاسی مشین کے ساتھ نتھی کر دیا۔

آج بعض شیعہ حلقے وہی غلطی دہرا رہے ہیں: وہ “اہلِ بیت” کے نام پر ایک ایسے ریاستی جبر کا دفاع کر رہے ہیں جو ان کے ہی بتائے بلکہ رٹوائے ہوئے اہلِ بیت کے اخلاقی ورثے سے بالکل الٹ ہے۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ تاریخ یہ نہیں دیکھتی کہ آپ نے کس بظاہر خوبصورت نعرے کے جواب میں ظلم کا ساتھ دیا، وہ یہ دیکھتی ہے کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے: نہتے انسانوں کے یا اقتدار کے ساتھ۔

جو لوگ آج استحصالی ریاستوں کے حق میں اور عوام کے خلاف کھڑے ہیں، وہ کل یہ کہنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے کہ “ہمیں معلوم نہیں تھا۔”

انہیں معلوم ہے۔
ایرانی عوام کو بھی معلوم ہے۔
اور یہی بات اقتدار کے حامیوں کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے۔

مذہب اگر انسان کے ساتھ نہ کھڑا ہو تو وہ خدا کے نام پر اقتدار کا ہتھیار بن جاتا ہے اور تاریخ میں اس ہتھیار نے ہمیشہ اپنے ہی ماننے والوں کو سب سے پہلے زخمی کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں