رحمت اللہ مانجوٹھی
اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس مارکیٹ میں ہر وقت تقریباً ساڑھے سات ہزار افراد موجود ہوتے ہیں، جن میں دکاندار اور وہاں کام کرنے والے ملازمین شامل ہیں۔ کل بارہ سو دکانیں ہیں، اگر ہر دکان پر صرف ایک گاہک بھی مان لیا جائے تو یہ تعداد بارہ سو بنتی ہے۔ شہر میں شادیوں کا سیزن ہے اور شادی کا تقریباً ہر سامان ایک ہی وقت میں اس مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔
یہ کراچی کے مڈل کلاس کی پسندیدہ مارکیٹ ہے۔ شادی کی خریداری کے لیے عموماً مرد صرف پیسے دینے کے لیے ساتھ ہوتا ہے جبکہ اصل خریداری عورتیں اور بچے کرتے ہیں۔ ایک شادی کی خریداری کے لیے کم از کم تین چار عورتیں اور اتنے ہی بچے ساتھ ہوتے ہیں۔ آگ ہفتے کے دن لگی، جو سندھی حساب سے اتوار کی رات بنتی ہے، اسی لیے اس رات رش معمول سے کہیں زیادہ تھا۔
مارکیٹ کی وینٹیلیشن کے لیے بنائی گئی تمام کھڑکیاں دکانداروں نے بند کروا کر وہاں سامان رکھ دیا تھا۔ داخلی اور خارجی دروازوں کے سامنے بھی اس قدر سامان رکھا ہوتا ہے کہ دو افراد ایک ساتھ داخل نہیں ہو سکتے، ایک کے پیچھے ایک چلنا پڑتا ہے۔ اوپر نظر اٹھائیں تو بجلی کی ننگی تاروں کا جنگل دکھائی دیتا ہے۔
ہوا کا گزر بند ہونے کے بعد اندر پیچیدہ اور تنگ راہداریوں کا جال ہے۔ مختلف سیکشنز کے درمیان کچھ راستے ہیں جن کا علم صرف دکانداروں کو ہوتا ہے، گاہکوں کو نہیں۔ جیسے ہی آگ لگی، کچھ دکانداروں نے سامان نکالنے کی کوشش کی، لیکن آگ بڑھتی گئی۔ آخرکار دکاندار جان بچا کر نکل آئے، مگر دروازوں پر رکھا ہوا سامان بھی آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جس کے باعث گاہک باہر نہ نکل سکے۔
ان میں کچھ دکاندار اور ملازمین بھی شامل ہیں۔ جو لاپتہ افراد کی تعداد بتائی جا رہی ہے وہ صرف دکانداروں اور مزدوروں کی ہے، ظاہر ہے گاہکوں کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔ باہر موجود جائز و ناجائز پارکنگ والوں میں سے ایک نے چابی دکھاتے ہوئے بتایا کہ ایک گاڑی میں میاں بیوی اور دو بچے آئے تھے، کہہ کر گئے تھے ایک گھنٹے میں واپس آ جائیں گے، لیکن اب تک نہیں لوٹے۔
اس مارکیٹ میں زیادہ تر رکشوں پر آنے والا طبقہ آتا ہے، کاروں والے کم، جبکہ موٹر سائیکل سوار بہت زیادہ ہوتے ہیں، جن کا اس وقت کوئی شمار نہیں۔ کراچی کے تنگ فلیٹس میں رہنے والوں کے دل بھی تنگ ہو چکے ہیں، رشتے دار اور بھائی بہنوں سے رابطے کم ہو گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی اصل تعداد شاید دو ہفتوں بعد بھی معلوم نہ ہو سکے۔
ایک عورت نے کہا:
“میرا ایک ہی بھائی ہے اور وہی دین دنیا میں میرا واحد سہارا ہے، خریداری کے لیے آیا تھا۔ اب کسی معجزے کی منتظر ہوں، آپ دعا کریں۔”
اس کی باتیں دل چیر دینے والی تھیں۔
ایک شخص نے گھر میسج بھیجا:
“چاروں طرف آگ ہے، میرا نکلنا ممکن نہیں۔ مجھے معاف کر دینا۔”
ایک نوجوان کی ماں کہہ رہی تھی:
“میرے شوہر کے انتقال کے بعد آج ہی میرا بیٹا یہاں نوکری پر لگا تھا تاکہ گھر کا چولہا جل سکے، مگر وہ خود جل گیا۔”
ایک نوجوان فلیٹ کی گیلری میں مدد کے انتظار میں کھڑا تھا، ہاتھ میں موبائل تھا، لوہے کی جالی کو پکڑے ہوئے۔ وہ اسی حالت میں جل کر کوئلہ بن گیا، موبائل بھی اس کے ہاتھ میں ویسے ہی رہ گیا۔
آگ کی اطلاع کے ایک گھنٹے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑی پہنچی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ گاڑی خالی تھی اور پانی بھرنے گئی تھی۔ تاخیر کی ایک وجہ بندر روڈ کا جام ہونا بھی تھا، جو آگ لگنے کے بعد دکانداروں اور میڈیا کی گاڑیوں کے باعث مکمل طور پر بلاک ہو گیا تھا۔
جو امدادی عملہ آیا اس کے پاس نہ مناسب آلات تھے، نہ وسائل۔ چار منزلہ عمارت، جس میں تقریباً پچاس فلیٹس تھے، وہاں جلتے ہوئے رہائشیوں تک پہنچنے کے لیے سیڑھی تک موجود نہیں تھی۔ یہ وہ شہر ہے جو پورے ملک کو پالتا ہے، اور اس کے رہنے والوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ حکمرانوں کی شادیوں میں ایک گلوکارہ کو چھ کروڑ دیے جاتے ہیں، اور ایسے آدھا درجن گلوکار…
مجھے یاد ہے لیاری کے موسیٰ لین میں بسم اللہ بلڈنگ گر گئی تھی، لوگ دب کر مر گئے تھے۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے، وہ اسی دن اسلام آباد سے حادثے کی جگہ پہنچے، متاثرین کو گلے لگایا اور آنسوؤں کے ساتھ دلاسہ دیا۔ مگر وہ بھٹو تھا۔ آج کے حکمران شریف ہیں۔ وزیر اعظم تو دور کی بات، واقعے کی جگہ سے ڈیڑھ دو کلومیٹر دور موجود میئر کراچی بھی چوبیس گھنٹے بعد پہنچا۔ وزیر اعلیٰ اور ایک خاصخیلی وزیر صاحب بھی اتنی ہی تاخیر سے آئے، تقاریر کیں اور فوراً روانہ ہو گئے۔
یہ تو تھے حکمران، مگر کسی سیاسی جماعت-ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، اے این پی، پی ٹی آئی-کا کوئی سندھ یا کراچی سطح کا رہنما بھی نہیں پہنچا۔ سندھی پارٹیاں کراچی- کراچی تو کرتی ہیں، مگر دل سے کراچی کو اپنا نہیں سمجھتیں۔ اگر سمجھتیں تو ان کے مرکزی دفاتر کراچی میں نہ ہوتے؟ البتہ کراچی کے پلاٹوں سے انہیں بے پناہ محبت ہے، اس سے کون انکار کرے؟
کتنے زخم گنے جائیں؟ اس واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد جو ایک ایک کر کے سامنے آ رہی ہے، وہ سینکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں ہے۔
کراچی سوگوار ہے۔ نیند روٹھ چکی ہے۔ آنکھیں بند کرنے پر آگ کے شعلے دکھائی دیتے ہیں، اور ان شعلوں میں جلتے ہوئے بچے… اللہ اکبر۔
اب حکومت مہربانی کرے، ہم پر احسان کرے، کراچی میں موجود ایسی تمام بند مارکیٹوں کی انسپیکشن کرے۔ وینٹیلیشن کیوں بند ہے؟ دروازوں پر سامان کیوں رکھا جاتا ہے؟ یہاں دکانداروں کی غلطیوں کی سزا انہیں بھی ملی، کروڑوں کا نقصان ہوا، وہ بے روزگار بھی ہوں گے، مگر گاہکوں، خاص طور پر بچوں کے جسموں کو مشعل بنا کر ریاست نے کیسی عید منائی؟
فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بغیر پانی کے کیوں کھڑی رہتی ہیں؟ مارکیٹ میں آگ بجھانے والا فوم کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟
کیا حکمرانوں کو نیند میں یہ جلتے ہوئے بچے نظر آئیں گے؟
کیا ان کے کانوں میں بچوں کی چیخیں اور ماؤں کی وہ دہائیاں-
“خدا کے واسطے ہمارے بچوں کو بچا لو”-
کبھی ان کی نیند حرام کر سکیں گی؟
