پاکستانی نژاد کینیڈین پی ایچ ڈی سکالر حمزہ احمد پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار، وکیل کا دعویٰ

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور کے علاقے ڈیفنس سے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے پاکستانی نژاد کینیڈین سکالر حمزہ احمد کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔

حمزہ احمد کے وکیل یوسف رشید کے مطابق تین دن تک لاپتہ رہنے کے بعد اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی کہ حمزہ کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 20، 24 اور 26 اے کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حمزہ کی بہن کو ایک کال موصول ہوئی جس میں ان کی بات حمزہ سے کروائی گئی۔ حمزہ نے بتایا کہ وہ اس وقت لاہور کی کیمپ جیل میں موجود ہیں۔

حمزہ احمد کینیڈا کی معروف جامعہ یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں بطور سکالر وابستہ ہیں اور حال ہی میں اپنی پی ایچ ڈی تحقیق کے سلسلے میں پاکستان آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں اور انٹرویوز کر رہے تھے۔ تاہم کینیڈا واپسی سے ایک روز قبل وہ ڈیفنس لاہور سے اس وقت لاپتہ ہو گئے جب وہ اپنی ایک دوست کو گھر چھوڑ کر واپس جا رہے تھے۔

ابتدائی طور پر ان کے وکیل اور قریبی دوستوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کی گئی ایک اور ایف آئی آر منظر عام پر آئی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ حمزہ احمد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس (ایکس اور انسٹاگرام) پر ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف مواد شیئر کرتے رہے ہیں۔

وکیل کے مطابق اس ایف آئی آر میں کسی مخصوص سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ یا لنک شامل نہیں کیا گیا۔

حمزہ احمد کے ایک قریبی دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ حمزہ ایک محقق اور ماہر تعلیم ہیں جو مشرقِ وسطیٰ، پاکستان اور بھارت کی سیاست، جمہوری عمل، انسانی حقوق اور فلسطین کے مسئلے پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حمزہ خود کو دائیں بازو کی سوچ رکھنے والا قرار دیتے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات پر تنقیدی تحقیق کرتے رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق تاریخ دان اور سیاسی کارکن عمار علی جان نے بھی ان سے گفتگو میں بتایا کہ حمزہ نے ان سمیت متعدد اہم شخصیات کے انٹرویوز کیے تھے اور ان کی تحقیق کے سوالات زیادہ تر فلسطین، سیاسی عدم برداشت اور عالمی سیاسی رجحانات سے متعلق تھے۔

عمار علی جان کے مطابق اختلافِ رائے کے باوجود کسی ریسرچر کو اس انداز میں گرفتار کرنا مناسب نہیں، اور اس طرح کے اقدامات سے پاکستان میں علمی و تحقیقی ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں