افغانستان کے خلاف جوابی کارروائی جاری، 331 طالبان ہلاک، 104 چیک پوسٹ اور 163 ٹینک تباہ: عطا تارڑ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کی جانے والی کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں میں 37 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے دوران مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 28 فروری کی صبح تک افغان طالبان کے 331 اہلکار ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں اور 163 ٹینک و مسلح گاڑیاں تباہ کی گئیں جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آپریشن تاحال جاری ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا۔

دوسری جانب طالبان حکومت کے ایک حکومتی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کی شب پاکستان کے خلاف حملے دوبارہ شروع کیے گئے ہیں۔ طالبان کے مطابق خوست اور ٹانک میں آپریشن بحال کیا گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔

خیال رہے کہ طالبان حکومت اس سے قبل سرحد پار پوسٹوں پر حملوں کے نتیجے میں 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کر چکی ہے، جس کی پاکستانی حکام نے تصدیق نہیں کی اور طالبان کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں