اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ افغان طالبان ے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی شہید، 27 زخمی جبکہ ایک سپاہی لاپتہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی میں افغان رجیم کے 274 اہلکار مارے گئے جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان میں 15 سیکٹرز کے 53 مختلف مقامات پر فائرنگ اور چھاپے مارے، جو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر کیے گئے۔
ترجمان پاک فوج نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں افغانستان کی 73 سرحدی پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ 18 پوسٹیں پاکستانی فوج کے قبضے میں ہیں۔ ان کے مطابق 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی افواج نے 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان کے اندر 22 مقامات پر انتہائی احتیاط سے کارروائیاں کیں، جن میں کسی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ ان کے بقول انہی کارروائیوں کو جواز بنا کر افغان طالبان نے نام نہاد ایکشن شروع کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں کابل، قندھار اور پکتیکا میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد عسکری تنصیبات شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور سول قیادت کی ہدایات کے مطابق یہ آپریشن جاری رہے گا اور مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ افغان رجیم کو پاکستان اور دہشت گرد گروہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا انتخاب واضح ہے، اور وہ ہے ملک کی سلامتی، عوام کا تحفظ اور ناموسِ وطن۔