خطے کے 48 فیصد انتہائی غریب افراد پاکستان میں مقیم ہیں: عالمی بینک

اسلام آباد: عالمی بینک کی نئی اقتصادی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجِ فارس میں فروری 2026 سے شروع ہونے والے تنازع کے اثرات نے پاکستان، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں لوگوں کے ذرائعٔ معاش کو متاثر کیا ہے، جبکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ انسانی سطح پر بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اس خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد میں تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔

خطے کے حوالے سے جاری کیے گئے اپنے اکنامک اپ ڈیٹ میں عالمی بینک نے بتایا کہ لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی قیمت لبنان میں 80 فیصد سے زیادہ، متحدہ عرب امارات میں تقریباً 70 فیصد جبکہ پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں 40 فیصد سے زیادہ بڑھی۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے قیمتوں پر کنٹرول اور سبسڈیز نے صارفین کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کیا، تاہم اس کے نتیجے میں حکومتوں پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 80 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

عالمی بینک نے کہا کہ الجزائر، جبوتی، عراق، مراکش اور پاکستان کو بھی قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے نمایاں دباؤ کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شام اور پاکستان میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

پاکستان میں غربت میں اضافہ

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران روزانہ تین ڈالر کی عالمی غربت کی لکیر کے حساب سے غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس جبکہ 4.20 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر کے حساب سے 3.2 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ نے غربت میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

عالمی بینک کے مطابق اندازہ ہے کہ یہ منفی معاشی رجحانات 2026 تک برقرار رہیں گے۔

پاکستان انتہائی غربت کا بڑا مرکز

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے بلند ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

افغانستان، شام اور یمن میں بھی انتہائی غریب افراد کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ان تینوں ممالک میں مجموعی طور پر خطے کے ایسے افراد کا مزید 47 فیصد حصہ آباد ہے جو روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزار رہے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان، شام اور یمن طویل جنگوں اور تنازعات سے متاثرہ ممالک ہیں، جس نے وہاں غربت اور معاشی مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں