ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 309 زخمی؛ پاکستان کی مذمت

اسلام آباد/ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کے بعد فیصلہ کن جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ حملے میں ہوائی اڈے کے ایک مسافر ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسافروں اور ایئرپورٹ کے عملے کے ارکان کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ترجمان نے حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق مشرقی شہر دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بھی ایک پروجیکٹائل گرا۔ حالیہ دنوں میں سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک درجن سے زائد ایمبولینسوں کو تیزی سے ہوائی اڈے کی جانب جاتے دیکھا گیا۔

امریکا کی مذمت، ٹرمپ کا سعودی ولی عہد سے رابطے کا اعلان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں میں شرکت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس معاملے میں کارروائی کر سکتا ہے، تاہم حالیہ حملے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب میں مغربی ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہوائی اڈے کے علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے بھی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جب تک ہوائی اڈے کو محفوظ قرار نہیں دیا جاتا، اس علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

خلیجی ممالک کی متعدد ایئرلائنز نے ریاض کے لیے اور وہاں سے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ فلائٹ ریڈار کے مطابق ریاض جانے والی پروازوں کا رخ موڑنے یا انہیں منسوخ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پاکستان کا سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرنے والے تشدد کے ایسے واقعات کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری املاک اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے اور شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حوثی ملیشیا کے حملوں کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے اور حوثی ملیشیا پر زور دیتا ہے کہ وہ اس نوعیت کے حملے فوری طور پر بند کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں