سکھر(رپورٹ: اشرف ابڑو) غیرسرکاری سماجی تنظیم ناری فاؤنڈیشن سکھر نے پاکستان ڈیولپمنٹ الائنس، آواز فاؤنڈیشن پاکستان اور گلوبل کال ٹو ایکشن اگینسٹ پاورٹی کےمشترکہ تعاون سے گلوب چوک سکھر پر ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ مظاہرے کا مقصد عالمی مالیاتی انصاف کا مطالبہ کرنا اور دنیا بھر کے وسائل کو تباہ کن ایجنڈوں سے ہٹاکر صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے عوامی فلاحی منصوبوں کی طرف موڑنے کی اپیل کرنا تھا۔
یہ مظاہرہ ایک عالمی مہم کا حصہ تھا جو FFD4 انٹرنیشنل کانفرنس کے موقع پر 27 تا 29 جون کو دنیا کے 41 ممالک کے 149 شہروں میں جاری ہے، جس کا مقصد منصفانہ مالیاتی اصلاحات، قرضوں کی منسوخی، اور ماحولیاتی ذمہ داری کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں شازیہ عباسی، پروگرام منیجر ناری فاؤنڈیشن، ثمرین نجیب چیئرپرسن پی ایچ آر او، شبانہ خاکی، زرعی مزدور خاتون آمنہ گھانگھرو، سماجی کارکن شامل تھے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی حکومتیں کھربوں ڈالر جنگوں، نسل کشی، اسلحے، فوسل فیول سبسڈی اور آمرانہ اقدامات پر خرچ کر رہی ہیں، جبکہ تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے عوامی ضروریات مسلسل نظرانداز ہو رہی ہیں۔
انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف کیے جائیں، عالمی سطح پر دولت مندوں پر ٹیکس نافذ کیا جائے، ماحولیاتی مالیاتی فنڈز فوراً فراہم کیے جائیں، ہر انسان کو صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ تک رسائی دی جائے۔

معروف وکیل حیدر علی مہر نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”پاکستان ماحولیاتی آفات کا شدید شکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں بار بار سیلاب، خشک سالی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود، عالمی مالیاتی ادارے قرضوں کی واپسی اور کفایت شعاری کی شرائط لگا کر ان بحرانوں کو مزید بدتر کر رہے ہیں۔”
انہوں مظاہرین نے زور دیا کہ پاکستان جیسے ممالک کو اپنے مالیاتی وسائل کو ماحولیاتی تحفظ، قرضوں میں نرمی، اور انسانی ترقی کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔
شرکا میں بابو مہر،گلزار خاتون، محنت کش خاتون، اجے کمار، اقلیتی حقوق کے کارکن، عبدالوحید، امجد انور اور دیگر نے عالمی تحریک برائے انصاف، مساوات اور پائیدار ترقی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ تیسری دنیا اور گلوبل ساؤتھ پر قرضوں کا بوجھ ختم کیا جائے اور مالی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔