اسلام آباد (اے ایف پی/ویب ڈیسک) پاکستان میں مون سون کی حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 111 تک جا پہنچی ہے، جن میں 53 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کی 26 جون سے 14 جولائی 2025 تک کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اموات کی سب سے بڑی وجہ بجلی کا کرنٹ لگنے کے واقعات رہے، جب کہ اچانک آنے والے سیلاب دوسرے نمبر پر ہیں۔
جون کے آخر میں پیش آنے والے ایک واقعے میں کم از کم 13 سیاح اس وقت سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہو گئے جب وہ ایک بلند دریا کے کنارے بارش سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ اموات صوبہ پنجاب میں ہوئیں، جو پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ ہے۔
15 سے 17 جولائی کے دوران مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 15 سے 17 جولائی کے دوران تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کا کم دباؤ اس وقت مدھیا پردیش (انڈیا) کے شمال مغرب پر موجود ہے اور اگلے 24 سے 72 گھنٹوں کے دوران پاکستان پر اثر انداز ہو گا۔
اس موسمی نظام کے زیر اثر مون سون ہوائیں شدت سے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
جنوبی ایشیا میں مون سون کا موسم ہر سال 70 سے 80 فیصد بارشیں لاتا ہے، جو زراعت، خوراک کی سلامتی اور لاکھوں کسانوں کے روزگار کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں۔
تاہم، خطہ تیزی سے موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں آ رہا ہے، اور موسم کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ سائنسدان اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت کس طرح اس پیچیدہ نظام کو متاثر کر رہا ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب اب بھی یادگار
یاد رہے کہ 2022 میں غیر معمولی مون سون بارشوں نے پاکستان کے ایک تہائی حصے کو زیرِ آب کر دیا تھا جس میں سندھ میں س سے زیادہ تباہی آ گئی تھی اور لاکھوں لوگ متاثر ہوئے تھے، جس میں 1,700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
ان سیلابوں سے متاثرہ کئی علاقے اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔
رواں سال مئی میں شدید طوفانوں، بشمول ژالہ باری، کے نتیجے میں بھی کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔