مگر بات صرف سانپوں کی کہاں ہے؟

جینی علی

آج دنیا بھر میں سانپوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
مقصد؟ لوگوں میں ان رینگنے والے جانداروں کے بارے میں شعور بیدار کرنا، ان کے کردار کو سمجھنا اور بقا کی اہمیت اجاگر کرنا۔

مگر سوشل میڈیا پر کیا ہو رہا ہے؟
فیس بک پر دوست احباب “دلچسپ انداز” میں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں.
کوئی عورت کی زلفوں کو سانپ سے تشبیہ دے رہا ہے، کہ وہ مردوں کو لپیٹ کر ڈستی ہیں۔
کوئی آستین کے سانپوں کو ٹیگ کر رہا ہے، جیسے وہی سب کچھ بگاڑنے والے ہوں. یونیورسٹی کے دوست ایک دوسرے کو طنزاً “سانپ” قرار دے رہے ہیں.

گویا ہر شخص کے ارد گرد صرف زہریلے لوگ ہیں، اور وہ خود سب سے معصوم۔
کوئی یہ نہیں پوچھ رہا
خود اپنے اندر کون سا سانپ پال رکھا ہے؟
کون سا زہر دل میں چھپا رکھا ہے جو وقتاً فوقتاً دوسروں کی زندگیوں میں چھوڑتے ہیں؟

اصل مسئلہ یہی ہے,
ہر شخص دوسروں کے زہر کو پہچان لیتا ہے،
مگر اپنے اندر رینگتی فطرت پر پردہ ڈال دیتا ہے۔
ظاہر ہے، خطرہ محسوس ہو تو سانپ ڈستا ہے.

مگر انسان؟
وہ کبھی انا کے لیے،
کبھی حسد کے لیے،
کبھی خالی پن،
کبھی بدلہ،
اور اکثر محض دل بہلانے کو کاٹتا ہے۔

سانپ اپنی بقا کے لیے حملہ کرتا ہے،
ہم اپنی محرومیوں کی تسکین کے لیے۔
جانوروں کی فطرت میں جو کچھ ہے,
جھپٹنا، گرانا، ڈسنا، لپٹنا وہ سب اضطراری عمل ہیں۔

مگر انسان؟
وہ سوچ کر، تول کر، سلیقے سے،
اور اکثر محبت کے ساتھ وار کرتا ہے۔
انسان “اشرف المخلوقات” ہے
اس لیے کہ وہ سیکھتا ہے۔
لیکن کیا سیکھا ہے ہم نے؟
سیکھا تو صرف یہی ہے کہ
کس لمحے، کس طرح، اور کتنی چالاکی سے دوسروں کو کاٹا جائے۔

اس لیے اگر آج آپ کو یہ دن منانا ہی ہے
تو دوسروں کو “سانپ” کہنے سے پہلے،
اپنے اندر کے سانپ کو سلام کہیے۔
وہ سانپ جو دل پر لوٹتا ہے،
جو زہر بن کر لہجے میں ٹپکتا ہے،
اور جو ہر اُس شخص کو ڈستا ہے,
جو آپ کی توقعات پر پورا نہ اترے۔

آج انہیں بھی اس خوشی سے محروم نہ کیجیے
انہیں بھی مبارکباد دیجیے
کیونکہ یہی سانپ سب سے زیادہ آپ کی زندگی میں سرگرم ہیں.
اور سب سے زیادہ نظر انداز بھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں