پنجاب میں مون سون کی تباہ کاریاں: 24 گھنٹوں میں 63 ہلاکتیں، چکوال میں فوجی ریسکیو آپریشن جاری

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہو گئے۔ موسلا دھار بارشوں اور خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے واقعات میں یہ جانی نقصان پیش آیا۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، رواں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک 103 شہری جاں بحق اور 393 زخمی ہوئے ہیں، جب کہ 128 مکانات مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں، جن سے دریاؤں اور نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ متعدد علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

چکوال میں ہنگامی صورتحال: فوج طلب

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق، چکوال میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ متعدد شہری سیلابی ریلوں میں پھنس گئے، جنہیں نکالنے کے لیے پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ریسکیو اداروں پر مشتمل آپریشن جاری ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ:

“ریسکیو آپریشن شہریوں کے مکمل انخلا تک جاری رہے گا، اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز سمیت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔”

اربن فلڈنگ اور ہائی فلڈ کا امکان

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق:

دریائے جہلم (نیو رسول): ہائی فلڈ (اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے)

دریائے جہلم (منگلا): نچلے سے درمیانی سطح کا سیلابی صورتحال ہے۔

جبکہ راولپنڈی، گجرانوالہ اور فیصل آباد ڈویژنز: اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔

دریائے سندھ میں (تربیلا، کالا باغ، چشمہ): کے مقام پر نچلے درجے کا سیلابی صورتحال ہے، جبکہ گڈو بیراج کے مقام پر درمیانی اور سکھر بیراج پر نچلی سطح کے سیلابی رہلے گذر رہے ہیں۔

*21 جولائی سے نیا سسٹم متوقع

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے پیشگی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

“21 جولائی سے ملک کے بالائی حصوں اور مشرقی دریاؤں کے بالائی طاس میں ایک نیا موسمیاتی سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے، جو مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا سبب بن سکتا ہے۔”

احتیاطی تدابیر اور اپیل

پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو خستہ حال یا کچے مکانات خالی کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں