گلگت بلتستان / لودھراں: بابوسر ٹاپ پر کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں خطرناک لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد گاڑیاں بہہ گئیں اور کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق، لودھراں سے شمالی علاقہ جات کی سیر پر جانے والے 22 رکنی سیاحتی گروپ کی گاڑی پر بھاری مٹی کا تودہ آن گرا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق متاثرین میں شاہدہ اسلام میڈیکل کالج اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر کے سی ای او فہد اسلام کی اہلیہ اور بھائی بھی شامل ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں فہد اسلام کیچڑ میں لت پت حالت میں دکھائی دیتے ہیں جو روتے ہوئے کہتے ہیں: “بیٹا! میرا بھائی اور میری بیگم بھی چلا گیا۔”
ایک اور ویڈیو میں ابوبکر صافی نامی مقامی شہری علاقے کی صورتحال یوں بیان کرتے ہیں: “بابوسر روڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ تین گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئیں، اور 17 افراد پر مشتمل کوسٹر میں سے ایک خاتون اور اس کے دو بچے ریلے کی نذر ہو گئے۔ میری معلومات کے مطابق 60 سے 70 لوگ اس ریلے میں بہہ چکے ہیں۔”
سیلابی تباہ کاریاں
ابتدائی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق 3 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، 4 افراد کو زخمی حالت میں ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے جس میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق 15 سے زائد سیاح تاحال لاپتہ ہیں جبکہ 8 سیاحوں کی گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں ہیں۔

درجنوں سیاح مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں، مقامی سطح پر رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔حکام کے مطابق ریسکیو ادارے اور مقامی انتظامیہ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کا حکم دیا گیا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے سے فی الحال گریز کریں اور مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں۔
واضح رہے کہ بابوسر ٹاپ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے سنگم پر واقع ہے، جو ناران سے گلگت کی طرف جانے والے مشہور راستے پر واقع بلند پہاڑی مقام ہے، جبکہ بالا سُور ٹاپ سوات میں ایک الگ مقام ہے۔
مذکورہ واقعہ بابوسر ٹاپ (گلگت بلتستان) میں پیش آیا ہے۔