9 مئی کیس: “جن پر ٹھوس شواہد تھے وہ رہا، جن پر نہیں تھے انہیں سزا دی گئی” حامد میر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے انسداد دہشتگردی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں یاسمین راشد کو سزا دی گئی جبکہ بعض دیگر اہم افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جن لوگوں نے 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس کے اندر داخل ہو کر فاتحانہ انداز میں ویڈیوز بنائے، ٹی وی چینلز پر اسٹیمنٹ دیا کہ “دیکھیں جی ہم آج کور کمانڈر ہاؤس میں داخل ہو گئے ہیں”. ان کو رہا کر دیا گیا ہے، اور یاسمین راشد کیلئے شواہد موجود تھیں کہ وہ لوگوں کو روک رہی ہیں اندر جانے سے، ان کو سزا دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کا فیصلہ ہے اس کو ہائی کورٹ میں بھی چیلینج کیا جا سکتا ہے اس کے بعد سپریم کورٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔

حامد میر نے کہا کہ اس کیس میں کچھ جو ملزمان ہیں جن کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں جو کہ 9 مئی کو موقعہ پر کور کمانڈر ہاؤس کے اندر موجود تھے، انہوں نے اندر کھڑے ہو کر گفتگو کی تھی اور ان کی گفتگو میں فاتحانہ انداز تھا کہ ‘ہم کور کمانڈر ہاؤس کے اندر گھس گئے ہیں’. ان کو چھوڑ دیا گیا ہے، وہ رہا ہیں اور تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے بڑے ایکٹو ہیں، ان کے پاس بڑے عہدے ہیں۔ جو لوگ ان کے خلاف کوئی خاص ثبوت نہیں ہے ان کو سزا ملی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کل فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو آج رات پونے گیارہ بجے سنایا گیا تو اتنی دیر کیوں لگائی گئی؟ جو عدالت رات کو پونے گیارہ بجے فیصلہ اناؤنس کرے گی تو اس عدالت کے فیصلے پر سوالات تو اٹھیں گے.

حامد میر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو سزا ہونی ہی نہیں تھی، کیونکہ 9 مئی کے دن ان کے کراچی میں موجودگی کے بڑے ٹھوس شواہد موجود تھے کہ ان کی اہلیہ بیمار تھیں وہ اس لئے کراچی میں موجود تھے۔ اس لئے انہیں بری کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں