پاکستان اور آذربائیجان کا ماحولیاتی شراکت کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

اسلام آباد / شاماخی: پاکستان کے وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، سینیٹر مصدق ملک، نے آذربائیجان کے وزیر ماحولیات اور COP29 کے صدر مختار بابایوف اور ملک کے چیف کلائمٹ نگوشیئیٹر یالچن رفیئیف سے ملاقات کی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔

پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق یہ ملاقات اقوام متحدہ کے غیر رسمی ماحولیاتی ریٹریٹ کے موقع پر آذربائیجان کے شہر شاماخی میں ہوئی، جہاں مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں موسمیاتی مالیاتی معاونت، موافقت کی کوششوں میں مدد، قابل تجدید توانائی کی ترقی، موسمیاتی لحاظ سے ہوشیار زراعت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے طریقوں پر گفتگو کی گئی۔

وزیر ماحولیات مصدق ملک نے ماحولیاتی تبدیلی کو “سرحدوں سے ماورا بحران” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے فوری، منصفانہ اور سائنسی بنیادوں پر عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماحولیاتی بحران کا سب سے زیادہ بوجھ عالمی جنوب (Global South) اٹھا رہا ہے، مگر ماحولیاتی نقصان کے ذمہ دار زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک ۔ہیں

یہ بات چیت تیاریوں اور طے شدہ وعدوں کی پیروی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کی میزبانی گزشتہ برس آذربائیجان نے کی تھی۔

پاکستان اور آذربائیجان دونوں حالیہ برسوں میں شدید ماحولیاتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، جن سے لاکھوں لوگ متاثر اور تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ جبکہ آذربائیجان کو پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں کمی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو زراعت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک نے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے پیرس معاہدے کے تحت وعدہ کردہ سالانہ 100 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان دونوں نے COP28 دبئی میں قائم ہونے والے Loss and Damage فنڈ کی بھی مکمل حمایت کی ہے۔

آذربائیجان نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو اپنی ترجیح بنا لیا ہے اور 2030 تک 30 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان نے اپنے قومی طور پر مقرر کردہ ماحولیاتی وعدوں (NDC) کے تحت توانائی کے شعبے کا 60 فیصد حصہ صاف توانائی پر منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

شاماخی میں جاری اقوام متحدہ کی غیر رسمی ماحولیاتی ریٹریٹ ماحولیاتی سفارت کاروں کے درمیان اعتماد سازی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد COP کانفرنسوں کے درمیان مسلسل پیشرفت کو یقینی بنانا ہے۔

ریٹریٹ کی میزبانی COP29 کے صدر مختار بابایوف نے کی، جس میں G77+چین، کم ترقی یافتہ ممالک (LDCs) اور چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (SIDS) جیسے اہم نیگو شیئٹنگ بلاکس کے نمائندے شریک ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں