پشاور / گلگت / مظفرآباد / کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوں اور بادل پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔ صرف خیبر پختونخوا میں ہلاکتوں کی تعداد 327 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں 35 اور آزاد کشمیر میں 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا ہے، جہاں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 204 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر بونیر کے مطابق 50 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ 120 سے زیادہ زخمی ہیں۔
دیگر متاثرہ اضلاع میں شانگلہ (36 ہلاکتیں)، مانسہرہ (23)، سوات (22)، باجوڑ (21)، بٹگرام (15)، لوئر دیر (5) اور ایبٹ آباد میں ایک بچے کے ڈوبنے کی اطلاع شامل ہے۔
انفراسٹرکچر کی تباہی
سیلابی ریلوں سے مکانات اور عوامی املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 11 گھر مکمل طور پر تباہ اور 63 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ سوات اور شانگلہ میں تین اسکول بھی نقصان کا شکار ہوئے۔

ایمرجنسی نافذ، فنڈز جاری
خیبر پختونخوا حکومت نے بونیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، تورغر، دیر اور بٹگرام میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے، جو 31 اگست تک برقرار رہے گی۔ صوبائی حکومت نے فوری امداد کے لیے پی ڈی ایم اے کو ایک ارب روپے فراہم کردیے ہیں جبکہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی کے لیے کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈپارٹمنٹ کو 1.55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم اور فوج کا کردار
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو بچایا جا سکے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے۔”
پاک فوج کے دستے بھی بونیر اور دیگر متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے راشن اور دیگر ضروری سامان متاثرین تک پہنچایا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں تباہی
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس لون نے بتایا کہ 15 اگست سے اب تک 35 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 318 گھر مکمل طور پر اور 674 جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ سیلاب کے باعث بلتستان ہائی وے کا پل بہہ جانے سے چار اضلاع کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
نلتر ویلی میں بڑی تعداد میں سیاح پھنس گئے ہیں کیونکہ نلتر ایکسپریس وے کا ایک حصہ بہہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی گھر بھی متاثر ہوئے ہیں جس سے ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔
سندھ حکومت کی مدد
ادھر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے 10 ٹرک راشن بیگز، واٹر فلٹریشن پلانٹ اور دیگر ضروری اشیاء کے ساتھ خیبر پختونخوا روانہ کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ مراد علی شاہ نے گلگت بلتستان کے گورنر سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
امدادی سرگرمیوں میں مشکلات
ریسکیو 1122 کے مطابق خراب سڑکوں اور ٹوٹے ہوئے پلوں کے باعث امدادی سرگرمیاں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ بیشتر علاقوں میں موبائل فون ٹاورز بھی متاثر ہونے سے لوگ ہیلپ لائنز تک رابطہ نہیں کر پا رہے۔ ریسکیو ٹیموں کو کئی مقامات پر پیدل امدادی سرگرمیاں انجام دینی پڑ رہی ہیں۔
مستقبل کی پیشگوئیاں
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 22 اگست تک مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس صورتحال میں مزید نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔