گوادر: گوادر کے ساحلی علاقے کے قریب کھلے سمندر میں ایک کشتی کے ڈوبنے کے نتیجے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے 5 ماہی گیر جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ماہی گیروں اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہی گیر کو زندہ بچا لیا، جبکہ باقی 5 کی لاشیں برآمد کرلی گئیں۔ تمام میتیں کراچی منتقل کردی گئی ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق، یہ افسوسناک حادثہ ہفتے کے روز پیش آیا جب کراچی سے ماہی گیری کے لیے روانہ ہونے والی ایک لانچ گوادر کے قریب گہرے پانیوں میں الٹ گئی۔
کشتی میں کل 6 ماہی گیر سوار تھے، جو کراچی کے علاقوں ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ، اور مچھر کالونی سے تعلق رکھتے تھے۔
حکام کے مطابق، کشتی کے الٹنے کی وجہ ممکنہ طور پر گہرے پانیوں میں سمندری طوفان یا تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال زیر تفتیش ہے۔
ریسکیو آپریشن
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ماہی گیر فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور ایک ماہی گیر کو معجزانہ طور پر زندہ بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس ماہی گیر کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ پاکستان فشر فوک فورم کے مطابق، ریسکیو ٹیمیں ہفتے سے اتوار تک مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف رہیں۔ ہفتے کو ایک ماہی گیر ایوب کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ اتوار کو مزید 4 لاشیں کھلے سمندر سے نکالی گئیں۔ اس طرح جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی۔
جاں بحق ماہی گیروں کی شناخت
جاں بحق ہونے والوں میں ایک باپ اور اس کا جواں سالہ بیٹا ذیشان بھی شامل ہیں، جو ابراہیم حیدری کے علی اکبر شاہ گوٹھ کے رہائشی تھے۔ ایوب کی نماز جنازہ اتوار کی دوپہر ادا کی گئی اور انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ذیشان کی نعش اتوار کی شب گوادر سے کراچی منتقل کی گئی۔ دیگر تین ماہی گیروں کا تعلق کراچی کے علاقے مچھر کالونی سے تھا۔ دو میتیں سہراب گوٹھ کے ایدھی سردخانے منتقل کی گئیں، جہاں سے انہیں مچھر کالونی لے جایا جائے گا، جبکہ دو میتیں ابراہیم حیدری روانہ کی گئیں۔
حکام اور مقامی ردعمل
پاکستان فشر فوک فورم نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی اور بتایا کہ تمام لاشیں کراچی منتقل کردی گئی ہیں۔ ایک لاش علی اکبر شاہ گوٹھ میں ورثا کے حوالے کی جا چکی ہے، جبکہ تین لاشیں گوادر کے ایدھی مرکز میں رکھی گئی تھیں، جو بعد میں کراچی روانہ کی گئیں۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
ماہی گیروں کے مسائل اور حفاظتی خدشات
یہ واقعہ پاکستان کے ماہی گیروں کے پیشے سے وابستہ خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
گوادر اور کراچی کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر اکثر گہرے سمندر میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں ناقص حفاظتی انتظامات اور پرانی کشتیوں کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، گوادر کے ماہی گیر بندرگاہ کی ترقی کے باوجود بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، اور ہسپتالوں کی کمی کا شکار ہیں، جو ان کے روزگار اور حفاظت کو مزید متاثر کرتی ہے۔