سکھر میں بھتہ نہ دینے پر ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ، اسسٹنٹ جاں بحق، ڈاکٹروں نے ہسپتالوں کی تالا بندی کی دہمکی دے دی

سکھر(رپورٹ: تاج رند) سکھر میں ڈکیتوں نہ بھتہ نہ دینے پر مشہور ڈاکٹر کرپال داس کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے ڈاکٹر کے اسسٹنٹ جاں بحق ہوگئے جبکہ ڈاکٹر خود معمولی زخمی ہوگیا۔

ڈاکوؤں کے حملے میں زخمی ڈاکٹر کرپال داس نے میڈیا کے نامہ نگاروں سے بتایا کہ “میں صبح ساڑھے دس بجے کے وقت سکھر سے ببرلوء (خیرپور) میں واقع اپنی ہسپتال کی طرف جا رہا تھا، سکھر بیراج کی پل چڑھتے ہی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے اسسٹنٹ اویس نے آواز دی کہ ڈاکٹر صاحب ڈاکوؤں نے حملہ کیا ہے، وزیر علی بوہڑ (اسسٹنٹ) کو گولی لگی ہے، آپ نیچے ہوجائیں، میں نے ڈرائیور کو کہا گاڑی بھگاؤ، ہم گاڑی بھگا کر سیدھا ببرلوء تھانہ پہنچیں، جہاں سے پولس ساتھ لیکر زخمی ساتھی کو سکھر ہسپتال پہنچایا مگر ہسپتال پہنچتے میرا زخمی ساتھی وزیر علی بوہڑ دم توڑ گیا”.

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ڈاکو موٹر سائیکل پر سوار مسلحہ ڈاکوؤں نے ایئرپورٹ تھانے کے 500 میٹر فاصلے پر سکھر بیراج کے پولس چوکی کے بلکل قریب حملہ کیا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کرپال داس سے باگڑجی کچے کے ڈاکوؤں کے گینگ نے بھتہ طلب کیا تھا، متعدد بار بھتے کی پرچیاں بھیجی گئیں، پولس نے شکایات کے باوجود بھتہ مانگنے والے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

ڈاکٹرز کا شدید ردعمل، ہسپتالیں بند رکھنے کی دہمکی

ڈاکٹر کرپال داس پر قاتلانہ حملے اور اسسٹنٹ کی ہلاکت کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی اپیل پر درجنوں ڈاکٹروں نے ہندو پنچایت اسپتال کے سامنے بندر روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ ڈاکٹروں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سکھر کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار ضلعی پولیس سربراہ کو ٹھہرایا۔

دی انڈس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خوشی محمد سوھو، ڈاکٹر راج کمار اور ڈاکٹر افتخار شاہ نے کہا، ’’ایس ایس پی سکھر مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹرز سمیت شہر کے تاجروں اور شریف شہریوں کو بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں۔ انہوں نے دہمکی دی کہ اگر 48 گھنٹوں میں حملہ آور گرفتار نہ ہوئے تو ہم ضلع بھر کے ہسپتالوں کی تالا بندی کر کے غیر معینہ مدت کے لیے کام بند کر دیں گے۔‘‘

پولیس کا آپریشن، مشتبہ افراد زیر حراست

واقعے کے بعد ایس ایس پی سکھر اظہر خان کی ہدایت پر کچے کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بھاری نفری اور مشینری کے ساتھ متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

ایس ایس پی سکھر کا کہنا ہے کہ ’’مجرموں کے خلاف بلا امتیاز اور بے رحم کارروائی جاری رہے گی، اور جلد حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘‘

رنجیت کمار کی ہنگامی پریس کانفرنس، پنچائت رہنما پر سنگین الزامات

دوسری جانب، سکھر نیشنل پریس کلب میں ہندو نوجوان سنگت کے صدر رنجیت کمار ماکيجا نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی اور اسے اقلیتوں کی سلامتی کے لیے ایک خطرناک اشارہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ’’یہ صرف ڈاکٹر کرپال داس پر حملہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی امن پسندی، رواداری اور اقلیتوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان ہے۔‘‘ ان کے مطابق، سکھر میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن کشیدہ ہوتی جا رہی ہے اور شہری خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں رنجیت کمار نے سندھ ہندو پنچایت کے سربراہ مکی ایشور لعل پر سنگین الزامات بھی عائد کیے، جن میں برادری کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا، جبری مذہب تبدیلی جیسے حساس معاملات پر سیاسی فائدہ اٹھانا، اور کاروباری فراڈ شامل ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر کرپال داس پر حملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور سکھر میں بڑھتے جرائم کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں