کراچی(ویب ڈیسک) سندھ اسمبلی نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کشمیر پر بھارت کا قبضہ غیر قانونی ہے اور کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف ہے۔‘‘
بدھ کو ہونے والے اجلاس میں یہ قرارداد صوبائی وزیر برائے داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے پیش کی، جسے ایوان نے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا۔
“بھارت نے کشمیری عوام سے غداری کی”
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ:
“مودی سرکار نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر آئینی طریقے سے ختم کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت نے اپنے ہی شہریوں سے غداری کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے۔
“ہم کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔ کشمیر بھارت کا نہیں، کشمیر کشمیریوں کا ہے۔”
مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارت کو اپنی شکستوں سے سبق سیکھنا چاہیے، اور اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ کشمیر کے لیے آواز بلند کی، اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی نظریہ بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا ہے۔
اراکین اسمبلی کا مؤقف
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جمیل سومرو نے کہا کہ:
“5 اگست کا دن کشمیری عوام پر ایک تاریخی ظلم کا دن ہے۔ بھارت نے کشمیری عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا۔”
سکندر شورو نے کہا کہ بھارت آج بھی کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے، جب کہ شبیر قریشی نے کہا کہ:
“5 اگست کے مظالم پر اگر کتابیں لکھی جائیں، تو بھی کم ہوں گی۔ یہ ظلم کی ایک طویل داستان ہے۔”
پیپلز پارٹی کی ایم پی اے ہیر سوھو نے کہا کہ:
“چاہے کشمیر ہو یا فلسطین، مسلمانوں پر مظالم پر عالمی طاقتیں صرف مذمت کرتی ہیں، لیکن عملی اقدامات سے گریزاں ہیں۔”
“بھارت کی تاریخی حیثیت کمزور ہے”
صوبائی وزیر سردار شاہ نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے نوجوانی میں ہی قائداعظم کو کشمیر کے حوالے سے خط لکھا تھا۔
“کشمیر پر بھارت کی کوئی دعویٰ قابلِ قبول نہیں۔ عالمی مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر برصغیر کی قدیم تہذیب انڈس ویلی سولائزیشن کا حصہ ہے۔”
“مودی کی پالیسی بدترین ہے”
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا:
“کشمیر کے معاملے پر سندھ اسمبلی متحد ہے۔ نریندر مودی نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔”
ان کے مطابق، لاکھوں بھارتی فوجی آج بھی کشمیر پر قابض ہیں اور مودی حکومت کی پالیسییں دنیا کی نظروں کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے بھی مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے جرات سے اٹھایا تھا، جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مودی کو ’’کشمیر اور گجرات کا قصائی‘‘ قرار دیا تھا۔
اسمبلی اجلاس ملتوی
سندھ اسمبلی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے پر مبنی یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔
قرارداد کی منظوری کے بعد اسمبلی اجلاس جمعے کے روز سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔