سانگھڑ میں صحافی کی ہلاکت: خاور حسین کی آخری لوکیشن شام ساڑھے پانچ بجے حیدرآباد کی تھی۔ ایڈیشنل آئی جی

سانگھڑ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے صحافی خاور حسین کی پراسرار ہلاکت کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعہ افسوسناک ہے اور اس کی شفاف تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا ہے، گاڑی کی مکمل تلاشی لی گئی ہے جبکہ عینی شاہدین سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔ فارنزک شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور دوبارہ پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ہے۔

سانگھڑ میں جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ، خاور حسین کا موبائل فون ری سیٹ کیا گیا ہے، اس کا سی ڈی آر نکالا گیا اور فون سی ٹی ڈی کو بھیجا گیا ہے۔ واقعے کے وقت کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ٹول پلازہ کی ویڈیوز بھی حاصل کرلی گئی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اکیلے تھے کوئی اور اس کے ساتھ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اہم عینی شاہد سامنے آیا ہے جس نے خاور سے بات کی تھی تاہم کسی نے بھی فائرنگ کی آواز سننے کی تصدیق نہیں کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ، خاور حسین کی آخری لوکیشن شام ساڑھے پانچ بجے حیدرآباد کی تھی۔

ایڈیشنل آئی جی نے انکشاف کیا کہ خاور حسین کے موبائل کی سم واقعہ کے بعد سے غائب ہے، حالانکہ وہ آخری وقت تک استعمال میں تھی۔ اسلحہ جو گاڑی سے برآمد ہوا، وہ خاور حسین کا اپنا تھا اور اس کا لائسنس بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ فیملی کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا لیکن ان کے ذاتی معاملات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں