کراچی(ویب ڈیسک) سندھ کی پارلیمانی سیاست میں نوجوانوں پر مشتمل ایک نئی سیاسی جماعت عوامی راج تحریک پاکستان (آرٹ) نے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کردیں ہیں۔ پارٹی کے قیام کے بعد 17 اگست کو کراچی کے ضلع ملیر کے پپری فٹبال گراؤنڈ میں ایک عوامی جلسے کا انعقاد کر کے عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

جلسے میں شریک نوجوانوں اور کارکنان نے بینرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے جبکہ قیادت کے حق میں پرجوش نعرے بھی لگائے گئے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کے عوام خصوصاً نوجوان موجودہ سیاسی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں اور اب ایک نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
رہنماؤں نے اعلان کیا کہ عوامی راج تحریک سندھ کے وسائل پر عوام کے حق کے لئے جدوجہد کرے گی اور نوجوانوں کو عملی سیاست میں آگے لانے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔
جلسے کی قیادت عوامی راج تحریک کے رہنماؤں بیرسٹر خلیل شاہ، بیرسٹر خیام نظامانی، سراج چانڈیو، ایڈووکیٹ راشد چانڈیو، ایڈووکیٹ زین لغاری اور بلاول لاکو نے کی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ سندھ کی زمینیں کسی بھی صورت میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے دینا قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھو دریا پر کینال تعمیر کرنے کی سازشیں سندھ کے خلاف سازشوں کا تسلسل ہیں، لیکن باشعور عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے وسائل پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عوامی راج تحریک پاکستان کے چیئرمین بیرسٹر سید خلیل شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھو دریا سندھ کے عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ پانی کی کمی کے باعث انڈس ڈیلٹا تباہ ہوچکا ہے اور اگر سندھو دریا پر مزید کینال تعمیر کیے گئے تو سندھ کی زراعت اور ماحول دونوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
بیرسٹر خیام نظامانی نے کہا کہ سندھ کی سرزمین جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کی آگ میں جل رہی ہے، جبکہ سندھ کے باسی ڈاکوؤں اور بدامنی کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ مگر اب سندھ کے باشعور عوام بیدار ہو چکے ہیں اور اپنی دھرتی کو بچانے کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔
سراج چانڈیو اور بلاول لاکو نے کہا کہ عوامی راج تحریک کی جدوجہد کا مرکز کراچی ہوگا، جہاں ہر کونے اور چوک میں جلسے منعقد کر کے سندھ کے عوام کو منظم کیا جائے گا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کراچی میں نسل پرستی کی سیاست کو دفن کر کے کراچی کی عوام کو ایک پرامن، عوامی، جمہوری سیاست کا پلیٹ فارم مہیا کریں گے۔ اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے نوجوان قیادت کو اقتدار میں لاکر سندھ کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
رہنماؤں نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ سندھو دریا پر کسی بھی نئے کینال کی تعمیر کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور سندھ کے وسائل اور زمینوں کے تحفظ کے لیے جدوجہد ہر محاذ پر جاری رکھی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ملیر میں عوامی راج تحریک پاکستان کا یہ جلسہ سندھ کی سیاست میں نئی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے اور امکان ہے کہ مستقبل میں یہ جماعت صوبائی سیاست پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
عوامی راج تحریک پاکستان (آرٹ) کی پروفائل
عوامی راج تحریک پاکستان (آرٹ) کا قیام نوجوان سیاسی کارکنوں اور سماجی رہنماؤں نے کیا تاکہ سندھ کی سیاست میں نئی قیادت کو متعارف کرایا جا سکے۔۔ مرکزی قیادت میں بیشتر نوجوان وکلاء ہیں۔
مرکزی ایجنڈا: آرٹ کے ترجمان کے مطابق تنظیم سندھ کے قدرتی وسائل پر مقامی عوام کا حق، تعلیم اور روزگار میں نوجوانوں کی شمولیت، کرپشن کے خاتمے اور شفاف طرزِ حکمرانی کا قیام چاہتی ہے۔
سیاست کا دائرہ کار: ترجمان کے مطابق عوامی راج تحریک فی الحال سندھ کے مختلف اضلاع میں اپنی تنظیم سازی کر رہی ہے اور نوجوانوں کو متحرک کرنے پر زور دے رہی ہے۔
آرٹ قیادت کی دعویٰ ہے کہ اس جماعت کی سب سے بڑی طاقت نوجوان قیادت ہے جو موروثی سیاست کے خلاف متبادل پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔