سکھر (رپورٹ: تاج رند) پاکستان ریلوے حکام نے ضلع حکومت کے مطالبے پر سکھر تا روہڑی “ھو جمالو” علاقائی ریل سروس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ضلع کونسل سکھر کے چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ نےڈویزل سپرنٹینڈنٹ (ڈی ایس) پاکستان ریلوے جمشید عالم سے ملاقات کی۔ ضلع چیئرمین کے مطالبے پر ڈی ایس ریلوے نے سکھر تا روہڑی کے درمیان “ھو جمالو” ٹرین سروس کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔

ریلوے حکام کے مطابق یہ ٹرین دن میں تین بار سکھر تا روہڑی اور روہڑی تا سکھر سفر کرے گی، جس سے شہریوں کو سستی، محفوظ اور آسان سواری میسر ہوگی۔
اس سہولت کے ذریعے نہ صرف عوام کے آمد و رفت کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ شہر میں ٹریفک دباؤ بھی نمایاں طور پر کم ہوگا۔ ملاقات میں ٹرین کے ساتھ نئے پلیٹ فارمز کی تعمیر پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سید کمیل حیدر شاہ کے مطابق یہ قدم عوام کے لیے ایک “انقلابی تحفہ” ہے، جس سے پنوعاقل، سانگی، روہڑی، سکھر اور گوسڑجی کے شہری براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ھو جمالو: ایک لوک داستان
کہتے ہیں کہ جب انگریز سرکار نے دریائے سندھ پر سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لیے لئنسڈاؤن پل بنایا اور وہاں سے ریل کا پہلا سفر شروع کرنا چاہا، تو کوئی بھی ٹرین ڈرائیور ہمت نہ کر سکا۔ اس پل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ دنیا کے اُن چند پلوں میں سے ایک تھا جو بغیر کسی درمیانی پلر کے بنایا گیا تھا۔ لوگوں کے دلوں میں خوف تھا کہ کہیں ریل گاڑی پل پر سے گزرتے ہوئے دریائے سندھ کی لہروں میں نہ جا گرے۔

انگریز حکام شدید پریشانی میں تھے کہ آخر کون وہ پہلا شخص ہوگا جو ٹرین کو اس پل پر سے گزارنے کی جرات کرے گا۔ تب انہیں خبر ملی کہ ایک قیدی ہے جس کا نام جمالو شیدی ہے۔ وہ بہادر اور نڈر مانا جاتا تھا۔ انگریز سرکار نے جمالو شیدی کو بلایا اور اس سے وعدہ کیا کہ اگر وہ پل پر سے ٹرین گزارنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کی باقی سزا معاف کر دی جائے گی۔
کہانی ہے کہ جمالو شیدی نے اس چیلنج کو قبول کیا۔ جب اُس نے بھاری ریل گاڑی کو بغیر پلر کے بنے اس عظیم پل پر سے کامیابی کے ساتھ گزارا، تو دریائے سندھ کے کنارے کھڑے اس کے رشتہ دار اور ساتھی خوشی سے جھوم اُٹھے۔ انہوں نے زور زور سے گانا شروع کیا:
“ھو جمالو! ھو جمالو!”
یوں پہلی بار یہ لوک گیت گایا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ گیت سندھ کا سب سے مشہور اور مقبول گیت بن گیا۔ آج بھی شادی بیاہ، تہواروں اور خوشی کے مواقع پر مرد و خواتین جب “ھو جمالو” گاتے اور رقص کرتے ہیں تو دراصل وہ جمالو شیدی کی اُس بہادری کو یاد کرتے ہیں، جس نے لئنسڈاؤن پل سے پہلی بار ریل گاڑی گزار کر تاریخ رقم کی۔
اگرچہ مؤرخین کے درمیان اس واقعے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے، مگر زیادہ تر کا ماننا ہے کہ یہی وہ لمحہ تھا جب ھو جمالو سندھ کے دلوں کی دھڑکن اور ثقافت کی پہچان بنا۔
یاد رہے کہ “ھو جمالو” سندھ کی قدیم ترین لوک داستان اور گیت ہے جو سندھ سمیت برصغیر اور دنیا بھر میں مقبول ہے۔ شادی بیاہ، سالگرہ اور خوشی کے دیگر مواقع پر مرد و خواتین اسی گیت پر روایتی رقص کر کے اپنی ثقافت کا اظہار کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ “ھو جمالو” کی اس لوک کہانی میں ریل اور سکھر کو روہڑی سے ملانے والے تاریخی لوہی پل (Lansdowne Bridge) کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس تناظر میں “ھو جمالو” ٹرین سروس نہ صرف سفری سہولت فراہم کر گی بلکہ سندھ کے عظیم ثقافتی ورثے کو بھی نئی زندگی بخشے گی۔