سکھر: صدارتی ایوارڈ یافتہ صحافی اجے لالوانی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کی بیرون ملک فرار ہونے کا انکشاف

سکھر (رپورٹ:تاج رند) ضلع سکھر کے صالح پٹ شہر کے صدارتی ایوارڈ یافتہ صحافی اجے لالوانی قتل کیس میں نامزد تین ملزمان کے بیرون ملک فرار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت سکھر میں کیس کی سماعت کے دوران نامزد ملزمان رضا شاہ، جمیل شاہ اور جانب میرانی عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ضمانت دہندہ سید عاشق علی شاہ کو فوری طلب کرتے ہوئے وضاحت طلب کی۔

مدعی مقدمہ دلیپ کمار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سزا سے بچنے کیلئے اپنی جائیدادیں فروخت کر کے ایک ایک کرکے بیرون ملک فرار ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان مقدمے سے دستبرداری کے لیے ان پر دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔

دلیپ کمار نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو فوری جیل بھیجا جائے، ورنہ یہ سب ایک ایک کرکے ملک سے فرار ہو جائیں گے۔ اس موقع پر ضمانت دہندہ عاشق شاہ نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ سماعت پر تینوں ملزمان کو ہر صورت عدالت میں پیش کریں گے۔

عدالت نے ضامن کی یقین دہانی پر سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اجے لالوانی قتل کیس کا پس منظر اور پروفائل

اجے لالوانی صالح پٹ شہر کے رہائشی اور معروف صحافی تھے، جو طویل عرصے تک مختلف ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے علاقے میں سماجی مسائل، کرپشن اور جرائم کے خلاف بے باک رپورٹنگ کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔

مارچ 2021 میں اجے لالوانی کو صالح پٹ میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

صالح پٹ پولس اسٹیشن پر مقتول صحافی کے والد دلیپ کمار کی مدعیت میں آٹھ ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے، جس میں سابق چیئرمین ٹاؤن کمیٹی عنایت شاہ، وائیس چیئرمین احسان شاہ، سابق ایس ایچ او صالح پٹ عاشق میرانی، رضا شاہ، جانب میرانی، جمیل شاہ، اکبر منگریو اور غلام مصطفی میرانی بطور ملزم نامزد ہیں۔

ان کے قتل کے بعد صحافتی حلقوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا۔

اجے لالوانی کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے سندھ صحافی اتحاد کی جانب سے نعمت کھوڑو کی قیادت میں صالح پٹ سے سکھر تک چالیس کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ کیا گیا (فائنل فوٹو)

صحافیوں کے تنظیم سندھ صحافی اتحاد کی جانب سے صالح پٹ سے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ تک چالیس کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ بھی کیا گیا تھا۔ اور مطالبہ کیا گیا کہ مقتول صحافی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اجے لالوانی کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدرِ پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا، جو ان کی صحافتی جدوجہد اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ان کی کاوشوں کا اعتراف تھا۔

یہ کیس گذشتہ کئی برسوں سے عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے، تاہم اب تک ملزمان کو سزا نہ ملنے پر مقتول کے اہلِ خانہ اور صحافتی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

اہم گواہ کی پراسرار موت

اجے لالوانی کے قتل کے ڈیڑہ سال بعد 5 اکتوبر 2022 کو ان کے قتل کیس کے اہم گواہ صحافی نریش کمار کی لاش ببرلوء بائی پاس کے قریب قومی شاہراہ سے برآمد ہوئی تھی۔

اجے لالوانی قتل کیس کے اہم گواہ نریش کمار کے حیاتی کی تصویر، جس کا پراسرار موت ہوا

صحافیوں اور لواحقین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نریش کو اغوا کرنے کے بعد حادثے کی صورت میں قتل کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں