سکھر(رپورٹ: تاج رند، توصیف کھوسو)
جمعیت علمائے اسلام (ف) صوبہ سندھ کا پانچ روزہ “امن مارچ کارواں” کشمور سے سکھر پہنچ گیا، جس کے دوران کندھکوٹ، شکارپور اور سکھر میں بڑے عوامی اجتماعات منعقد ہوئے۔ کارواں کا آغاز کشمور سے کراچی کی جانب ہوا، جہاں جگہ جگہ کارکنان نے استقبالیہ کیمپ قائم کرکے شرکاء کا شاندار استقبال کیا اور پھول نچھاور کیے۔

کارواں کے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے صوبائی امیر عبدالقیوم ہالیجوی اور صوبائی سیکریٹری جنرل راشد خالد محمود سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ راشد محمود سومرو نے اعلان کیا کہ 18 ستمبر کو جے یو آئی کے کارکنان اور عوام وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امن قائم کرنے کے لیے صوبے میں فوری آپریشن ناگزیر ہے، لیکن تین سالوں میں امن و امان کے نام پر 6 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام آج بھی امن کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کو 70 سالوں سے لوٹا جا رہا ہے اور اسپتالوں، تعلیم و انفراسٹرکچر کے لیے آنے والے فنڈز کرپشن کی نذر ہو گئے ہیں۔

صوبائی امیر عبدالقیوم ہالیجوی کا کہنا تھا کہ جے یو آئی سندھ کے مظلوم عوام کی واحد ترجمان جماعت ہے اور وہ صوبے کو لٹیروں سے نجات دلا کر رہے گی۔ راشد محمود سومرو نے کہا کہ عوام کا موجودہ جم غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ جے یو آئی ہی سندھ کی نجات دہندہ قوت ہے جو عوام کو ان کے حقوق اور انصاف دلائے گی۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر سندھ حکومت نے جرائم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
امن مارچ کے عوامی اجتماعات سے ڈپٹی جنرل سیکٹری سندھ محمد صالح انڈھڑ، سراج احمد شاہ امروٹی، سعود افضل ہالیجوی، عبداللہ مہر، محمد رمضان پھلپوٹو، ڈاکٹر اے جی انصاری، سمیع الحق سواتی، غلام اللہ ہالیجوی، امیر بخش “میر” مہر، شاہ زین بجارانی، امیر علی جتوئی، سلیم سندھی، حسین آصفی، سلیم اللہ بروہی، حافظ سراج چنا، عبد الحمید مہر، شمس الدین بھیری، جمال الدین اوگاہی، طیب میکھو و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔