میرپورخاص (انڈس ٹربیون) سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ میرپورخاص کے حکم پر سٹی میئر، میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کے خلاف غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ سیل کرنے اور املاک پر قبضہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق، ملزمان پر بھتہ خوری، ارادہ قتل، 5 ہزار لٹر پٹرول کی چوری و غیر قانونی فروخت اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

پٹرول پمپ کے مالک راجا اشتیاق کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ روپے رشوت نہ دینے پر اس کا کاروبار زبردستی سیل کیا گیا۔
مقدمے میں میئر عبدالرؤف غوری، میونسپل کمشنر انیس الرحمٰن سیال، ایس ایچ او کامران ہالیپوتہ سمیت کئی افسران اور پرائیویٹ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق 26 اکتوبر 2024 کو میئر کے اکسانے اور ہدایات پر میونسپل کمشنر، پولیس، ایس ایچ او، عملے اور پرائیویٹ افراد نے میونسپل کارپوریشن کے لائسنس یافتہ قانونی پٹرول پمپ کو سیل کیا، املاک کو نقصان پہنچایا اور 5 ہزار لٹر پٹرول سمیت دیگر قیمتی سامان چوری کیا۔
اس سے قبل سیشن عدالت نے مذکورہ واقعے پر ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا رد کردی تھی تاہم سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ میرپورخاص نے شواہد و ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد میئر، میونسپل کمشنر، پولیس ایس ایچ او اور دیگر عملے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا، جس پر ٹاؤن تھانہ میرپورخاص میں ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
شہری حلقوں میں اس واقعے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے جبکہ کاروباری برادری نے غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔