میرپورخاص: پوجا میگھواڑ کی اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کے خلاف سینکڑوں شہریوں کی ریلی

میرپورخاص (انڈس ٹربیون) پاکستان دراوڑ اتحاد کی جانب سے کم عمر لڑکی پوجا میگھواڑ کی جبری مذہب تبدیلی، اس کی بازیابی اور والدین سے ملاقات کے مطالبے پر اسٹیٹ لائف چوک سے پریس کلب میرپورخاص تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں سیکڑوں خواتین، مرد اور بچے شریک ہوئے۔ مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے دھرنا بھی دیا اور نعرے بازی کی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان دراوڑ اتحاد فقیر شیوا کچھی، نرمَل کمار میگھواڑ، موہن لال پھنوّر، ڈاکٹر ہمیر داس جاٹ، ڈاکٹر نارائن لاکھانی، لالا اظہر پٹھان، واجد لغاری، ڈاکٹر ڈونگر شام، پوجا کی والدہ کملہ میگھواڑ، پرکھو میگھواڑ، نور محمد مری، ڈاکٹر امرشی کچھی، انیل شرما، نکاش میگھواڑ، ہر جی میگھواڑ سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ:

پوجا میگھواڑ گزشتہ روز سیشن کورٹ میرپورخاص میں پیش ہوئی، جہاں اپنے والدین کو دیکھ کر چیختی چلاتی رہی اور گلے لگ کر روتے ہوئے کہتی رہی: “مجھے بچاؤ، اغوا کار مجھے مار ڈالیں گے، میں والدین کے پاس جانا چاہتی ہوں۔”

رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ عدالت کے احاطے میں شر برادری کے افراد نے پوجا، اس کے والدین اور دیگر رشتہ داروں پر حملہ کرکے تشدد کیا، لیکن پولیس نے کارروائی کرنے کے بجائے الٹا بچی کے والد، ماموں اور دیگر وارثوں کے خلاف ایف آئی آر درج کردی، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے پوجا کو دو دن کے لیے دارالامان بھیج دیا ہے، تاہم مطالبہ ہے کہ بچی کو فوری طور پر سیف ہاؤس میں والدین سے ملاقات کرائی جائے۔

رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں ہندو برادری کی نابالغ بچیوں کے اغوا، زبردستی مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیاں معمول بن چکی ہیں، جس کے باعث ہندو برادری میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پوجا میگھواڑ کو والدین کے حوالے کیا جائے اور سندھ میں ہندو برادری کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں