گھوٹکی: ماڑی انرجی اور پولیس کے مظالم کے خلاف صحافیوں کا دھرنا 24 گھنٹے سے جاری، زخمی صحافیوں کی حالت تشویشناک

میرپور ماتھیلو(نمائندہ خصوصی) ماڑی انرجی کی زیادتیوں کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور ان کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر تشدد اور اُن کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف گھوٹکی یونین آف جرنلسٹس کا دھرنا ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے باہر مسلسل 24 گھنٹے سے جاری ہے۔

دھرنے میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے اسسٹنٹ سیکریٹری لالا قادر بھٹو، گھوٹکی یونین آف جرنلسٹس کے صدر لطیف لغاری، سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند، نائب صدر ذوالفقار ملاح، سیکٹری جنرل پراگ شرما، سینیئر صحافی ساحل جوگی، ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر وزیر مہر، حمید دل سمیت درجنوں صحافی شریک ہیں۔

جبکہ سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے رہنما اکرم میتلو، جسقم رہنما رمضان کلوڑ، میر حسن لاشاری، جیئے سندھ محاذ کے رہنما کمال مہر، جونیئر ذوالفقار بھٹو ٹیم جلال بوزدار، وقار بوزدار و دیگر سیاسی سماجی رہنماؤں نے بھی احتجاجی کیمپ پر پہنچ کر یکجہتی کا اظہار کیا.

پولس گردی کے خلاف درجنوں صحافیوں نے رات ایس ایس پی آفس کے باہر احتجاجی کیمپ میں سڑک پر گزاری۔

احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے صحافی رہنماؤں نے کہا کہ ماڑی انرجی انتظامیہ اور گھوٹکی پولیس نے ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔

پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر بہیمانہ لاٹھی چارج کیا گیا، جب کہ واقعے کی کوریج کے لیے پہنچنے والے صحافیوں کو نشانہ بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تشدد کے نتیجے میں نوجوان صحافی نوید چغتائی (رپورٹر سوڀ دہڑکی) کی ریڑھ کی ہڈی (Spinal cord) متاثر ہوئی ہے، اور ڈاکٹروں کے مطابق اگر اُن کا علاج فوری طور پر کسی بڑے اسپتال جیسے آغا خان اسپتال میں نہ کرایا گیا تو خدشہ ہے کہ وہ مستقل طور پر معذور ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح صحافی ایاز کھاوڑ (رپورٹر GTV، میرپور ماتھیلو) کے سر پر ڈنڈے لگنے سے وہ شدید زخمی ہیں اور انہیں تشویشناک حالت میں رحیم یار خان اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

صحافی رہنماؤں نے واضح کیا کہ جب تک زخمی صحافیوں کو انصاف اور علاج نہیں ملتا اور جھوٹے مقدمات واپس نہیں لیے جاتے، صحافیوں اور طلبہ پر تشدد کرنے والے ڈی ایس پی اوباوڑو عبدالقادر سومرو ودیگر پولس اہلکاروں کو معطل نہیں کیا جاتا تب تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ماڑی انرجی اور گھوٹکی پولیس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور زخمی صحافیوں کے علاج کا بندوبست حکومت کے خرچے پر کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں