گھوٹکی: میرپور ماتھیلو پریس کلب کے سیکریٹری جنرل طفیل رند آٹھ سالہ بھتیجی سمیت مسلحہ افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

میرپور ماتھیلو (رپورٹ: تاج رند) گھوٹکی ضلع کے علاقے میرپور ماتھیلو میں نامعلوم مسلح افراد نے صحافی طفیل رند اور ان کی آٹھ سالہ بھتیجی پر فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ بظاہر ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اور روزنامہ مهران کے رپورٹر طفیل رند اپنے گاؤں پیر بخش حیدرانی سے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ جروار روڈ پر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ دو گولیاں منہ پر لگنے سے طفیل رند موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ گرنے سے ان کے ساتھ سوار بچے زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا، جہاں طفیل رند کی آٹھ سالہ بھتیجی رینا عرف چاندنی بھی سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث دم توڑ گئی۔ دونوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔

مقتول صحافی کو ماضی میں بھی متعدد بار دھمکیاں ملیں، اُن کے گھر اور زمین پر قبضہ کیا گیا، حتیٰ کہ چچازاد بھائیوں اور چچا سمیت جھوٹے مقدمات میں پھنساکر جیل بھی بھیجا گیا، جہاں سے وہ بعد ازاں عدالت سے باعزت بری ہوئے۔

ذرائع کے مطابق طفیل رند نے اپنی زندگی کے دوران کئی مرتبہ سوشل میڈیا اور سرکاری سطح وزیر داخلہ سندھ، آئی جی پولس سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو تحریری درخواستیں دے کر اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا، مگر پولیس نے اُنہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔

مقتول صحافی کی جانب سے وزیر داخلہ، آئی جی اور ڈی آئی جی کو تحفظ کیلئے کئی بار تحریری طور پر درخواستیں دی گئیں (واٹسپ اسکرین شاٹس)

یاد رہے کہ ڈیڑھ سال قبل اسی علاقے میں، اسی پریس کلب سے وابستہ صحافی نصراللہ گدّانی کو بھی اسی سڑک پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، جس کے قاتل آج تک گرفتار نہیں کیے جا سکے.

مقتول صحافی طفیل رند کی ڈیڑھ سال قبل قتل کئے جانے والے صحافی دوست نصراللہ گڈانی کے ساتھ یادگار تصویر (تصویر فیس بک)

دیرینہ دشمنی اور دھمکیوں کا سلسلہ

پولیس اور صحافتی ذرائع کے مطابق، مقتول صحافی کا اپنے ہی قریبی رشتہ داروں سے دیرینہ تنازعہ چل رہا تھا۔ اس جھگڑے میں چند ماہ قبل طفیل رند کے چچازاد بھائی عبدالقیوم حیدرانی رند کو بھی قتل کیا گیا تھا۔

سینئر صحافی اسد پتافی نے بتایا کہ طفیل رند کو متعدد بار جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، ان کے گھر پر حملے کیے گئے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بھی درج ہوئے۔ طفیل رند نے زندگی میں کئی مرتبہ وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو تحریری درخواستیں دے کر تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی تھی، مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

قاتل کا اعترافی ویڈیو بیان

قتل کے چند گھنٹوں بعد شریف حیدرانی نامی شخص نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے طفیل رند کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔

ملزم نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اعتراف جرم کر لیا ہے (فیس بک اسکرین شاٹ)

ملزم کا کہنا تھا کہ مقتول صحافی اور ان کے بھائیوں نے ان کے بیٹے عامر کو قتل کیا تھا، اور اس نے انتقاماً طفیل رند کو قتل کیا۔

مقتول کے اہلخانہ کا موقف

طفیل رند کے چچا نادر رند نے دی انڈس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک غریب شخص کے گھر پر قبضے کی خبر نشر کرنے کے بعد ملزمان نے طفیل رند سے دشمنی شروع کی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے کئی بار قرآن پاک کے ساتھ صلح کی کوشش کی، مگر ملزمان نے صاف کہا کہ ہم لڑیں گے۔”

نادر رند کے مطابق ملزمان مسلسل ان پر حملہ آور ہوتے رہے، اس سے قبل بھی ملزمان نے ان کے بیٹے عبدالقیوم جو کہ سعودی عربیہ سے چھٹیوں پر آئے تھے کو قتل کیا، ان کے بڑے بھائی (مقتول صحافی کے والد) اور بھائی کو بھی زخمی کیا.

صحافتی تنظیموں کا سوگ اور احتجاج

سکھر نیشنل پریس کلب، گھوٹکی یونین آف جرنلسٹس اور پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے طفیل رند کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سکھر پریس کلب کے صدر تاج رند، جنرل سیکریٹری پراگ شرما، پی ایف یو جے کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل لالا قادر بھٹو اور دیگر نے کہا کہ پولیس کی نااہلی اور غفلت کے باعث ایک اور صحافی اپنی جان گنوا بیٹھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں صحافیوں کے لیے حالات خطرناک بنتے جا رہے ہیں — گزشتہ چند برسوں میں عزیز میمن، نصراللہ گڈانی، اجے لالوانی، جان محمد مہر، بچل گھنیو، مشتاق کھنڈ، شان ڈہر، اصغر کھنڈ اور امتیاز میرسمیت ایک درجن کے قریب صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، مگر کسی کیس میں انصاف نہیں ہوا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت بھی شکارپور کے سینیئر صحافی سلطان رند، گھوٹکی کے صحافی لطیف لغاری سمیت کئی صحافی سنگین خطرات میں ہیں، مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی حفاظت کے لیے تیار نہیں۔

سکھر نیشنل پریس کلب اور گھوٹکی یونین آف جرنلسٹس کے رہنماؤں نے صحافی طفیل رند کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقتول کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان کے مطابق، وزیراعلیٰ نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ “صحافیوں پر حملے دراصل آزادیٔ صحافت پر حملے ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں