سکھر (رپورٹ: تاج رند) سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر 18 ملزمان کے خلاف قائم مالی بدعنوانی کا ہائی پروفائل کیس اہم موڑ پر پہنچ گیا۔ احتساب عدالت سکھر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کو سماعت کے ناقابل قرار دیتے ہوئے کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا ہے۔
نیب نے خورشید شاہ، ان کی دو بیویوں طلعت بیبی اور گلناز بیبی، دو بیٹوں-ایم پی اے فرخ شاہ اور یوسی چیئرمین زیرک شاہ-جبکہ داماد، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس شاہ سمیت مجموعی طور پر 18 افراد کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے کا کرپشن ریفرنس دائر کیا تھا- تاہم عدالت میں جمع کرائے گئے فائنل چالان میں رقم حیران کن طور پر کم ہو کر صرف 19 کروڑ روپے رہ گئی.
“50 کروڑ سے کم کی کرپشن- احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں”
سماعت کے دوران وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کا مقدمہ احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ جج غلام یاسین کولاچی نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کیس ایف آئی اے کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کردیئے.
پانچ سال دس ماہ بعد نیا موڑ
خورشید شاہ اور اہلِ خانہ پر تقریباً چھ سال تک ایک ارب 23 کروڑ روپے کا سنگین الزام قائم رہا، گرفتاریوں سے لے کر عدالتوں کے چکر تک مسلسل کارروائیاں ہوتی رہیں۔ تاہم نیب کا فائنل چالان سامنے آتے ہی یہی کیس صرف 19 کروڑ روپے تک محدود ہوگیا، جس نے نیب کی کارکردگی، شفافیت اور ارادوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں.
نیب کی بدنیتی یا ناقص تفتیش؟
قانونی ماہرین اور سیاسی مبصرین اس معاملے کو نہایت سنگین قرار دے رہے ہیں. اگر نیب کی جانب سے فائنل چالان میں رقم واقعی 19 کروڑ روپے ہی ثابت ہوتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ:
ایک سیاسی رہنما اور ان کے پورے خاندان کی پانچ سال سے زائد عرصے تک ہونے والی بدنامی کا ذمہ دار کون ہوگا؟
کیا نیب نے ابتدائی ریفرنس جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا؟
اگر فائنل چالان میں تبدیلی کسی دباؤ یا نااہلی کے تحت کی گئی تو اس کی انکوائری کب ہوگی؟
عدالتی حکم کے بعد کیس اب ایف آئی اے کے پاس منتقل ہوچکا ہے، جو آئندہ دنوں میں تحقیقات کے نئے مراحل کا آغاز کرے گا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف نیب کے نظامِ احتساب پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ مقدمات کے طریقہ کار کی شفافیت کا بھی امتحان ہے.