حیدرآباد (انڈس ٹربیون) سندھ کی وحدت، وسائل اور دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے سندھیانی تحریک اور عوامی تحریک کے تحت ہزاروں خواتین نے سٹی گیٹ سے حیدرآباد پریس کلب تک شاندار مارچ کیا۔ شرکاء نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم، کارپوریٹ فارمنگ، معدنی وسائل پر قبضے، سندھ کو تقسیم کرنے کی سازشوں، قبائلی دہشت گردی، کاروکاری اور خواتین کے قتل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے دفعہ 144 کو عوامی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا.
مارچ کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، ڈاکٹر ماروی سندھو، ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، نور احمد کاتیار، ستار رند، لال جروار، ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، عبدالقادر رانٹو، ماہ نور ملاح، سبھانی ڈاہری، حسنہ راہوجو، شمشاد بپڑ، بختاور ملاح، ایڈووکیٹ کونج لاشاری، ساجدہ پرھیار، پربھات ہالیپوٹو، غلام مصطفیٰ چانڈیو، ایڈووکیٹ نوید عباس کلہوڑو اور دیگر رہنماؤں نے کی.

مارچ سول اسپتال روڈ، تلک چڑھائی اور حیدر چوک سے ہوتا ہوا پریس کلب پہنچا جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا.
معروف لکھاری جامی چانڈیو، ایڈووکیٹ غفار ناریجو، ایڈووکیٹ اسرار چانگ، فہیم نوناری اور متعدد سماجی و وکیل رہنماؤں نے بھی مارچ میں شرکت کی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
وسند تھری کا خطاب
ایڈووکیٹ وسند تھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے جس کے ذریعے ملک میں ننگی آمریت مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم نے محمد علی جناح کے پاکستان کے تصور کو مسخ کر دیا ہے. حکمرانوں کو احتساب سے استثنا دینا آئین کی توہین اور بادشاہت نافذ کرنے کے مترادف ہے.
انہوں نے ملک کے آئین کی بنیاد 1940 کی قراردادِ پاکستان پر رکھنے کا مطالبہ کیا۔
وسند تھری کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی جیسا آئین سے بالاتر ادارہ وسائل کی لوٹ مار کا ذریعہ ہے، جبکہ کارپوریٹ فارمنگ سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینوں پر قبضے کی سازش ہے۔
عمرہ سموں کا خطاب
سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں نے کہا کہ سندھ کی زمینیں اور وسائل بیچنے میں پیپلز پارٹی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عدالتیں پہلے ہی 26 ویں ترمیم سے مفلوج ہو چکی ہیں جبکہ 27 ویں ترمیم نے انہیں مکمل طور پر حکومتی ماتحت بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے پاس اب پرامن جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا.

مارچ کے اختتام پر منظور کی گئی قراردادوں میں کہا گیا کہ:
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عوامی حقوق سلب کرکے ملک میں آئینی آمریت نافذ کی گئی ہے، جنہیں فوری واپس لیا جائے.
سکھر میں وکلاء کنونشن پر حملہ پیپلز پارٹی حکومت کی سرپرستی میں کی گئی کھلی دہشت گردی ہے، جس کی مذمت کی جاتی ہے.
ایس آئی ایف سی جیسے آئین مخالف ادارے کو فی الفور ختم کیا جائے
کارپوریٹ فارمنگ کے تمام منصوبے منسوخ کیے جائیں اور زمینیں ہاریوں کو واپس دی جائیں.
سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ملک دشمن ایجنڈا ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا.
کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور اسٹریٹجک نہری منصوبے ختم کیے جائیں.
پیکا ایکٹ اور اینٹی ٹیررازم ترمیمی ایکٹ جیسے کالے قوانین فوری ختم کیے جائیں.
مائنز اینڈ منرلز بل 2025 صوبائی وسائل پر ڈاکہ ہے، اسے واپس لیا جائے.
کاروکاری، ونی، بدی اور کم عمری کی شادی جیسی رسومات کا خاتمہ کیا جائے اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کی جائے.
عورت دشمن قبائلی و جاگیردارانہ نظام ختم کر کے خواتین کو مکمل تحفظ اور برابری دی جائے.
مارچ کے دوران شرکاء نے سندھ کی وحدت اور وسائل کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی حقوق کو پامال کرنے والے اقدامات واپس لیے جائیں۔