حیدرآباد (انڈس ٹربیون) حیدرآباد پولیس نے “سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ” نکالنے پر عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کے رہنماؤں سمیت 500 کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے.
کینٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سمون، عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، ادیب و دانشور جامی چانڈیو، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد کے جنرل سیکریٹری اسرار چانگ، میرپور خاص بار کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ غفار ناریجو، سندھیاڻي تحریک کی مرکزی رہنماؤں ماہ نور ملاح، شمشاد بپڑ، عوامی تحریک کے نائب صدر ستار رند اور سندھ گرلز اسٹوڈنٹس تحریک کی مرکزی آرگنائزر ایڈووکیٹ کونج لاشاری کو نامزد کیا گیا ہے.
اے ایس آئی وزیر احمد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود ریلی نکالی گئی جس پر دفعہ 188 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے.

گزشتہ روز عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کی جانب سے حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر “سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ” منعقد کیا گیا، جس میں ہزاروں خواتین، طالبات، سیاسی اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے 27ویں آئینی ترمیم، سندھ کے وسائل پر قبضے، قبائلی دہشتگردی اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا.
سندھ کی مختلف سیاسی جماعتوں اور بار ایسوسی ایشنز نے ایف آئی آر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پرامن جمہوری جدوجہد کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک میں عملی طور پر مارشل لا نافذ ہے.