کراچی (انڈس ٹربیون) سندھ اسمبلی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کی سرحدیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قرارداد پر بحث میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کی متنازعہ اور اشتعال انگیز گفتگو خطے میں غیر ضروری تناؤ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
“بھارتی وزیر دفاع گھبراہٹ کا شکار ہیں”
مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا تاثر افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “بھارتی وزیر دفاع نے کبھی دریائے سندھ کا پانی نہیں پیا، اسی لیے ان کی سوچ مسخ ہو چکی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور دریاؤں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سندھ کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت اجاگر
وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب میں سندھ کی ہزاروں سال قدیم تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ قبل از مسیح سے موجود ہے اور قدیم نقشوں میں ملتان اور مکران بھی سندھ کا حصہ دکھائے گئے ہیں۔
انہوں نے قیامِ پاکستان میں سندھی رہنماؤں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مسلم لیگ سندھ چیپٹر ہی نے تاریخی قراردادِ پاکستان کو منظور کیا تھا۔
“پاکستان ہمارے بڑوں کی قربانیوں سے بنا ہے، ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا”، وزیر اعلیٰ نے کہا۔
عالمی سطح پر معاملہ اٹھانے کا مطالبہ
قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف سفارتی سطح پر کارروائی کی جائے اور بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سمیت دریائے سندھ کے معاملات کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں اور عالمی برادری کو اس کے جارحانہ عزائم سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
پس منظر: بھارتی وزیر دفاع کا متنازعہ بیان
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چند روز قبل دہلی میں ایک تقریب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ “ایک دن سندھ دوبارہ بھارت کا حصہ بن سکتا ہے”۔ انہوں نے ثقافتی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ بھارت کی تہذیبی اکائی ہے۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا بلکہ پاکستان کے سیاسی حلقوں نے بھی اسے جارحانہ اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا۔
بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس بیان کو خطے میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جبکہ پاکستان نے اسے ریاستی مداخلت کے مترادف قرار دیا.