شکارپور(رپورٹ: بھاگ چند) شکارپور ضلع کے مدئجی شہر میں بائی پاس پر واقع ایک ہوٹل پر موٹرسائیکل سوار مسلح افراد کی سیدھی فائرنگ کے نتیجے میں ریٹائرڈ فوجی اہلکار اور راہگیر 12 سالہ بچی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔

ریٹائرڈ فوجی اہلکار لیاقت اجن ہوٹل پر بیٹھا تھا کہ موٹرسائیکل پر سوار حملہ آوروں نے اسے نشانہ بنا کر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کی زد میں آکر 12 سالہ بچی پارس جتوئی موقع پر ہی دم توڑ گئی، جبکہ لیاقت اجن کو شدید زخمی حالت میں لاڑکانہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ واقعے میں سراج جتوئی نامی شخص بھی زخمی ہوا۔

جاں بحق افراد کے لواحقین نے وارہ پل کے قریب سکھر–لاڑکانہ روڈ پر دھرنا دے کر شدید احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔
مقتول کے بھائی مظهر اجن نے میڈیا کو بتایا کہ شیخ برادری کے بعض افراد بھتہ طلب کر رہے تھے اور اس سلسلے میں دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر اظہر شیخ، عباس شیخ اور علی شیخ نے ان کے دو افراد کو اغوا بھی کیا تھا۔ مظہر اجن کے مطابق انہی افراد نے آج فائرنگ کرکے لیاقت اجن اور معصوم پارس جتوئی کو قتل کیا اور فرار ہوگئے۔
مظاہرین نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے مطالبہ کیا کہ جب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ بعد ازاں ایس ایچ او مدئجی نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت مانگ کر دھرنا ختم کروایا.