خیرپور(انڈس ٹربیون) سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور دوم 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ سکھر کے ایس آئی یو ٹی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ان کے صاحبزادے پرنس میر مہدی رضا تالپور نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔
میر علی مراد خان تالپور کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی خیرپور اور گردونواح میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
مرحوم کے صاحبزادوں پرنس عباس رضا تالپور اور پرنس میر مہدی رضا تالپور کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق میر علی مراد خان تالپور دوم کی نمازِ جنازہ 6 اکتوبر، منگل کو صبح 11 بجے محرم مجلس گراؤنڈ، نزد مسجدِ رضا، کوٹ ڈیجی میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی میر علی مراد خان تالپور دوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے صاحبزادوں اور سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میر علی مراد خان تالپور ترقی پسند اور عوام دوست شخصیت تھے اور ریاست خیرپور و سندھ کی تاریخ و ثقافت کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دریں اثنا، ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق میر علی مراد خان تالپور دوم کے انتقال پر 6 اکتوبر کو ضلع خیرپور میرس کی حدود میں عام تعطیل ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیل کے دوران ضلعی انتظامیہ کے تحت تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور دیگر ادارے بند رہیں گے، تاہم ایمرجنسی اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔
ریاست خیرپور کے آخری حکمران
میر علی مراد خان تالپور دوم 1933ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی برطانیہ سے حاصل کی۔ وہ میر فیض محمد خان ثانی کے فرزند تھے۔
کم عمری میں انہیں ریاست خیرپور کی مسند پر بٹھایا گیا اور سابق وزیراعظم لیاقت علی خان نے ان کی دستار بندی کی۔ بعد ازاں انہیں 17 توپوں کی سلامی کے ساتھ حکومتی اختیارات سونپے گئے۔
میر علی مراد خان تالپور دوم 1947ء سے 1954ء تک ریاست خیرپور کے والی رہے۔ ان کے دور سے منسوب ریاست خیرپور اور تالپور خاندان کی تاریخی وراثت میں قلعہ کوٹ ڈیجی، فیض محل اور مہرانو جنگل آج بھی اہم تاریخی و ثقافتی مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔
#TheIndusTribune #titdigital #Khairpur #MirAliMuradKhanTalpur #Talpur #Sindh #KhairpurState #KotDiji #SindhHistory علی مراد خان تالپور دوم 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
خیرپور: سابق ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور دوم 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ سکھر کے ایس آئی یو ٹی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ ان کے صاحبزادے پرنس میر مہدی رضا تالپور نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔
میر علی مراد خان تالپور کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی خیرپور اور گردونواح میں سوگ کی فضا چھا گئی۔
مرحوم کے صاحبزادوں پرنس عباس رضا تالپور اور پرنس میر مہدی رضا تالپور کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق میر علی مراد خان تالپور دوم کی نمازِ جنازہ 6 اکتوبر، منگل کو صبح 11 بجے محرم مجلس گراؤنڈ، نزد مسجدِ رضا، کوٹ ڈیجی میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی میر علی مراد خان تالپور دوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے صاحبزادوں اور سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میر علی مراد خان تالپور ترقی پسند اور عوام دوست شخصیت تھے اور ریاست خیرپور و سندھ کی تاریخ و ثقافت کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دریں اثنا، ڈپٹی کمشنر خیرپور الطاف احمد چاچڑ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق میر علی مراد خان تالپور دوم کے انتقال پر 6 اکتوبر کو ضلع خیرپور میرس کی حدود میں عام تعطیل ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیل کے دوران ضلعی انتظامیہ کے تحت تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور دیگر ادارے بند رہیں گے، تاہم ایمرجنسی اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔
ریاست خیرپور کے آخری حکمران
میر علی مراد خان تالپور دوم 1933ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی برطانیہ سے حاصل کی۔ وہ میر فیض محمد خان ثانی کے فرزند تھے۔
کم عمری میں انہیں ریاست خیرپور کی مسند پر بٹھایا گیا اور سابق وزیراعظم لیاقت علی خان نے ان کی دستار بندی کی۔ بعد ازاں انہیں 17 توپوں کی سلامی کے ساتھ حکومتی اختیارات سونپے گئے۔
میر علی مراد خان تالپور دوم 1947ء سے 1954ء تک ریاست خیرپور کے والی رہے۔ ان کے دور سے منسوب ریاست خیرپور اور تالپور خاندان کی تاریخی وراثت میں قلعہ کوٹ ڈیجی، فیض محل اور مہرانو جنگل آج بھی اہم تاریخی و ثقافتی مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔