دریا ایک زندہ وجود ہیں


نصیر میم
ن

دریائے سندھ سے ڈیلٹا کے لیے پانی چھوڑنے کے معاملے پر جب سرکاری مؤقف سامنے آتا ہے تو اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: ’’پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے!‘‘ یہ ڈرامائی جملہ ایک خاص ذہنیت کا عکاس ہے، جو پانی کو صرف ایک شے سمجھتی ہے، جسے صرف صنعت اور زراعت میں لگایا جانا چاہیے کیونکہ ان سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس ملک میں پانی یا آبی بہاؤ کی ماحولیاتی اہمیت کو اب تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت کے وزراء، پنجاب سے تعلق رکھنے والی بیوروکریسی اور واپڈا کے اہلکار اس طے شدہ جملے کو دہراتے رہتے ہیں۔


آبی ماحولیاتی نظام کے ماہرین اور دریائی کناروں پر بسنے والے لوگ اب ’’ماحولیاتی بہاؤ‘‘ کے لیے تحریک چلا رہے ہیں تاکہ آبی بہاؤ (دریا، نہریں، چشمے وغیرہ) میں پانی کی آلودگی، قدرتی آبی نظامات (جھیلیں، جنگلات، مچھلی کے مسکن، ڈیلٹا وغیرہ) کی ماحولیاتی ضرورتوں کو تسلیم کرایا جا سکے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس مقصد کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے اور ان بہاؤ کو ماحولیاتی بہاؤ (Environmental Flows) کہا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں دریاؤں کو زندہ وجود یا انسان کا درجہ دے کر ان کے ماحولیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔


سال 1972ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے قانون کے پروفیسر کرسٹوفر اسٹون نے قدرتی وجودات کو قانونی حقوق دینے کی تجویز دی۔ یہ تصور اب آبی ماحولیاتی نظام کو زندہ وجود جیسے حقوق دلوانے کی عالمی تحریک کا بنیاد بن چکا ہے اور یہ تحریک دنیا بھر میں زور پکڑ رہی ہے۔ عالمی سطح پر فطرت کو حقوق دینے کے لیے 369 اقدامات جاری ہیں۔

جب دریاؤں کو قانونی طور پر انسان تسلیم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دریا کو آزادی کے ساتھ بہنے کا حق حاصل ہو۔ اس کے علاوہ دریا سے جڑے وہ تمام عناصر جو زندگی کا ماحول پیدا کرتے ہیں، ان کا احترام اور تحفظ بھی لازم قرار پاتا ہے۔ جب کسی دریا کو شخصیت کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کے روح، شناخت اور سالمیت کو برقرار رکھنے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں بلا رکاوٹ بہنے، بہاؤ کا راستہ بدلنے اور اپنی کچی زمین میں سیلابی پانی لانے کا حق بھی شامل ہے۔ اس تصور کے تحت دریا کو قانونی طور پر اپنے نام پر مقدمہ دائر کرنے، اپنے نقصان پر فریاد کرنے، آلودگی یا نقصان پہنچانے والوں کو ذمہ دار ٹھہرانے اور ہرجانے کا دعویٰ کرنے جیسے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ایک بالکل نیا قانونی تصور ہے، جس سے جڑے کئی سوالات کے جواب ابھی تلاش کیے جانے ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں اس حوالے سے حکومتوں اور عدالتوں نے مثالی اقدامات کیے ہیں۔
سال 2008ء میں ایکواڈور دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے اپنے آئین میں ’’فطرت کے حقوق‘‘ کو تسلیم کیا، جسے خاص طور پر ’’پاچاماما‘‘ (دھرتی ماں) کے حقوق کا قانون کہا گیا۔ جلد ہی بولیویا نے 2011ء میں دھرتی ماں کا قانون منظور کیا، جس کے تحت پوری فطرت کو انسانوں کے برابر حقوق دیے گئے۔
2017ء میں نیوزی لینڈ پہلا ملک بنا جس نے وانگنوئی (Whanganui) دریا کو قانونی شخصیت کا درجہ دیا۔ بھارت میں گنگا اور یمنا دریاؤں کو زندہ وجود کا درجہ دیا گیا اور ان کو پہنچنے والے نقصان کو انسانوں کو پہنچنے والے نقصان کے برابر قرار دیا گیا۔ تاہم، بھارت کی سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے خدشات کے باعث اسے منسوخ کر دیا۔ 2017ء میں مدھیہ پردیش میں نرمدہ دریا کو بھی زندہ وجود کا درجہ دینے کے لیے قانون سازی کی گئی۔

سال 2019 میں بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے تورگ دریا کو زندہ وجود تسلیم کیا اور اس کے حقوق کی حفاظت کے لیے دریا تحفظ کمیشن قائم کیا۔ عدالت نے یہ حکم دیا کہ دریاؤں کی حفاظت اور آلودگی سے بچاؤ کے مضمون کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا جائے۔

سال 2017 میں آسٹریلیا کی وکٹوریا حکومت نے یرا دریا کے تحفظ کا ایکٹ پاس کیا، جس کے تحت دریا کو زندہ وجود مانا گیا۔ کینیڈا میں مینگنی (Minganie) میونسپلٹی اور ایکوانشت (Ekuanitshit) کونسل نے میگپائی (Magpie) دریا کو قانونی شخصیت تسلیم کیا اور اس کے نو حقوق مقرر کیے، جن میں وجود کا حق، قدرتی بہاؤ کا حق، محفوظ رہنے کا حق، آلودگی سے پاک رہنے کا حق، اور مقدمہ دائر کرنے کا حق شامل ہے۔

یورپی یونین نے 2000ء میں واٹر فریم ورک ڈائریکٹو منظور کیا جس کا مقصد تمام پانیوں کو ماحولیاتی بگاڑ سے بچانا اور ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کی کئی ریاستوں نے ماحولیاتی بہاؤ کے لیے کم از کم بہاؤ کے قوانین متعارف کرائے ہیں۔ آسٹریلیا نے 1994ء میں ماحول کو پانی کے استعمال کنندہ کے طور پر تسلیم کیا اور ماحولیاتی بہاؤ کو لازمی قرار دیا۔ جنوبی افریقہ کے نیشنل واٹر ایکٹ میں ماحولیات کی ضروریات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

ان مثالوں کی روشنی میں پاکستان میں بھی ماحولیاتی بہاؤ کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ فی الحال 1991ء کا پانی معاہدہ، 2018ء کی قومی آبی پالیسی اور موسمیاتی تبدیلی کی پالیسیاں انڈس ڈیلٹا کی ماحولیاتی حالت اور خطرات کا ذکر کرتی ہیں۔ سندھ کا دریا اور انڈس ڈیلٹا عالمی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ماحولیاتی بہاؤ اور دریاؤں کو انسانوں جیسے حقوق دینے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ زور پکڑنا چاہیے۔ اس قانون سازی میں دریاؤں کی آلودگی، میٹھے پانی کی جھیلوں کی حالت اور آبی جنگلات و جانداروں کے تحفظ کو شامل کرنا چاہیے۔

(جناب نصیر میمن آبپاشی، سیاسی، معاشی و اقتصادی معاملات کے ماہر ہیں ۔ وہ عرصہ دراز سے ان اہم موضوعات پر سندھی، اردو اور انگریزی روزناموں میں کالم لکھتے آ رہے ہیں ۔ سندھی روزنامہ کاوش کے 17 جون 2025 کی اشاعت میں چھپنے والا ان کا یہ کالم دی انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)

دریا ایک زندہ وجود ہیں“ ایک تبصرہ

  1. دریائے سندھ پر پنجاب کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا ہے اور یہ حقیقت ریاست پاکستان یا کسی بھی ادارے سے پوشیدہ کبھی نہیں رہی ہے لیکن سندھ کو بمطابق انصاف دہائیوں سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔
    دریائے سندھ کے پانی کو سمندر میں جانے نہیں دیا جاتا جس کا نتیجہ ساحلی علاقوں میں لاکھوں ایکڑ زمینیں ناقابلِ کاشت ہو گئی ہیں ۔ خدارا!!! اسلامی تعلیمات و قوانینِ فطرت کے مطابق دریائے سندھ کے پانی کو سندھ کے ساتھ سمندر تک رسائی دی جائے تو سرزمین سندھ خوشحال ہو سکے ۔
    سندھ سلامت
    ساتھ سلامت
    No More canals on Indus
    Sindh Reject Corporate Farming

اپنا تبصرہ لکھیں