دریاؤں کا پانی سمندر تک نہ پہنچا تو ساحلی پٹی صفحۂ ہستی سے مٹ سکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ

کراچی(ھینڈ آؤٹ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے “انسداد صحرائیت اور خشک سالی سے نمٹنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پانی زندگی ہے اور قدرتی وسائل کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج کا دن بنجر ہوتی زمینوں، بڑھتے قحط اور ماحولیات پر اثرانداز ہونے والے عوامل کے خلاف شعور بیدار کرنے کا دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت شجرکاری، بارانی پانی کے ذخیرے اور جدید واٹر مینجمنٹ کے منصوبوں پر عمل کر رہی ہے تاکہ زمین کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔

مراد علی شاہ نے خبردار کیا کہ اگر دریائے سندھ کا پانی سمندر تک نہ پہنچا تو ہماری ساحلی پٹی صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کو زندہ رکھنے کے لیے دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی انصاف کے تناظر میں لوئر ریپیرین رائٹس (Lower Riparian Rights) کو تسلیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انڈس ڈیلٹا تک پانی کی رسائی ماحولیاتی انصاف کا تقاضا ہے تاکہ زمین، ماحول اور زندگی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔.

دریاؤں کا پانی سمندر تک نہ پہنچا تو ساحلی پٹی صفحۂ ہستی سے مٹ سکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ“ ایک تبصرہ

  1. وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ کے پانی کی سمندر تک رسائی دینے کی بات اب کی ہے جبکہ اس کی ضرورت ہمیشہ سے تھی اور رہے گی ۔
    سمندر کے پانی سے ساحلی علاقوں کو بچانے کے لئے دریائے سندھ کے پانی کو سمندر میں جانے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے ۔
    چولستان کو آباد کرنے کے لئے سندھ کو بنجر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پہلے سے آباد علاقوں کو سیراب کرنے کے بعد ہی کچھ سوچا جا سکتا ہے لیکن اس وقت سندھ کے لئے ہی پانی نہیں ہوتا تو چولستان کو سرسبز بنانے کی باتیں سوائے بکواس کے کوئی معنیٰ نہیں رکھتیں ۔
    سندھ سلامت
    ساتھ سلامت
    No More canals on Indus
    Sindh Reject Corporate Farming

اپنا تبصرہ لکھیں