حیدرآباد: حیدرآباد میں سخی ستار ڈنو چولیاني ہاؤس پر جیئے سندھ رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت رہبر کمیٹی کے سربراہ نواز خان زئور نے کی۔ اجلاس میں جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو، جیئے سندھ قومی محاذ (جسقم- بشیر خان گروپ) کے سربراہ ڈاکٹر نیاز کالانی اور جیئے سندھ تحریک کے چیئرمین سورہیہ سندھی نے شرکت کی۔
رہبر کمیٹی کے سربراہ نواز خان زئور کی جانب سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق جلاس میں سندھ کی موجودہ سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ سندھودریا کو بچانے کی جاری پرامن جدوجہد سے توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی سرپرستی میں سندھ میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کندھ کوٹ، کشمور، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔
رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پنجاب چھ نئی نہریں بنانے پر بضد ہے اور وفاقی بجٹ میں ان کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں، جس کا مقصد سندھ کو بنجر بنانا ہے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ نہریں، ڈیم اور نئے بیراج سندھودریا کو موڑنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں دریائی بہاؤ بہتر ہونے کے باوجود سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں دھان کی کاشت متاثر ہو رہی ہے اور فصلوں کے لیے پانی دستیاب نہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم کو پانی کی عدم فراہمی سے ڈیلٹا تباہ ہو رہا ہے، زیرِ زمین پانی کھارا ہو چکا ہے اور ہیپاٹائٹس سمیت کئی بیماریوں نے سندھ کے عوام کو گھیر لیا ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔ اسی طرح تعلیم اور روزگار کی عدم دستیابی کے سبب سندھ کے باسی غربت کی عالمی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اجلاس میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر مقامی افراد سے زمینیں چھیننے پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کہا گیا کہ وسائل کے تحفظ اور زمینوں پر ناجائز قبضے کے خلاف پرامن جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو اغوا کیا جا رہا ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
رہبر کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ پرامن سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور موری واقعے کی عدالتی تحقیقات کروائی جائے۔
اجلاس میں محمد علی خشک، پنهل ساريو، غفار ميرجت، نعمان راجپر، ڈاکٹر خوشحال کالانی، مظهر نواز سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔