انجنیر اوبھایو خشک
حال ہی میں ہندستان نے سندہ طاس معاھدے کو معطل کر کے اس پر عملدر آمد پر پابندی لگا دی ہے۔ یاد رہے یہ معاہدہ 1960ء میں ہوا تھا۔ اس کی رو سے تین مشرقی دریاھ ستلج، راوی اور بیاس ہند سرکار کے حوالے کئے گئے جبکہ تین مغربی دریاہ سندہو، جھلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔ تین مغربی دریائوں پر ہندستان کو کچھ مخصوص حقوق دیئے گئے، جن میں آبی بجلی پیدا کرنا اور مخصوص زرعی زمین آباد کرنا شامل ہے۔
جبکہ 1960ع سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے درمیاں تین جنگیں لڑی گئیں اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ اپنی جگہ پر قائم رہا۔ 2023ء میں پہلی بار ہندستان نے معاہدے کی شق XII (3) کے تحت معاہدے میں ردوبدل کرنے کے لئے پاکستان کو لکھا۔ پاکستان کی طرف کوئی مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں ہندستان نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے معاہدے کو معطل کردیا۔
کیا ہندستان کا یہ اقدام معاہدے کی روح کے مطابق ہے؟۔ اس کا جواب منفی ہے۔ معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں ، جس کی رو سے کوئی بھی فریق یکطرفہ اقدام کرسکے۔ ہندوستان کے اس اقدام کی وجہ سے دو ایٹمی پڑوسی ملکوں کے درمیاں کشیدگی کم ہونے کی بجاث اور بڑھے گی۔ عیں ممکن ہے کہ دنیا کی پہلی پانی پر جنگ برصغیر میں لڑی جائے۔
ہندوستان کے اس جارحانہ اقدام سے نپٹنے کے لیے وزیراعظم پاکستان نے 3 جون 2025 کو پشاور کور ہیڈ کوارٹر میں ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آبی جارحیت سے نپٹنے کے لیے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے مشورے کے بعد، ملک میں نئے آبی ذخائر بنائے جائیں گے۔ ان نئے ذخیروں کی مالی اخراجات کا جائزہ لینے کےلئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی کو 72 گھنٹوں میں رپورٹ دینے کا پابند کیا گیا تھا۔
کیا ہندوستان کی آبی جارحیت سے نپٹنے کے لیے نئے ذخائر یعنی ڈیم بنانا قابل قبول حل ہے۔؟ کیا ہمارے پاس اتنا پانی موجود ہے جن سے نئے ڈیم بنائے جائیں؟ ملک میں نئے ڈیم بنانے کے لیے 2003 میں مشرف دور میں اے- این – جی عباسی کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل کامیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے 2005 میں اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ملک میں نئے ذخائر بنانے کے لیے پانی موجود نہیں ہے اس کے باوجود اس وقت بھی سندھو دریاہ پر تین نئے ڈیموں پر کام چل رہا ہے۔ اگر اور مزيد نئے ڈیم بنائے جائیں گے تو ان کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں اس وقت سندھ طاس (انڈس بیسن)۔ میں پانی کی مجموعی صورتحال کیا ہے۔
واپڈا جو کہ ملکی پانی معاملات پر اہم حیثیت رکھتا ہے اس نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سندھ طاس میں جاری نہروں میں پانی کی آمد جو کہ 1977 سے 1981-82 تک 102.73 ملین ایکڑ فوٹ تھی، وہ اب کم ہو کر (1999-2000 سے 23-2022) 95 ملین ایکڑ فوٹ رہ گئی ہے۔
یاد رہے کہ 1991میں صوبوں کے درمیان ہونے والے پانی معاہدے میں 117.35 ملین ایکڑ فوٹ پانی تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد 1991 پانی معاھدے سے اس وقت سسٹم میں پانی 22.35 ملین ایک فوٹ کم ہے _ اس کے علاوہ اس وقت مختلف زیر تعمیر پانی منصوبوں کے لیے 15.07 ملین ایکڑ فوٹ پانی چاہیے۔ ان منصوبوں میں دیامیر بھاشا ڈیم، مھمدن ڈیم، نئے گاج، کرم تنگی ڈیم اور چھوٹے چھوٹے منصوبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مشرقی دریاؤں سے آنے والا 6.17 ملین ایکڑ فوٹ جو کسی بھی وقت روکا جا سکتا ہے، مغربی دریاؤں پر ہندوستان کے لیے مخصوص 2.0 ملین ایکڑ فوٹ، افغانستان کا ممکنہ کابل دریاہ پر استعمال 0.5 ملین ایکڑ فوٹ اور کوٹڑی بئراج سے نیچے ماحولیاتی بھاؤ کے لیے 8.6 ملین ایکڑ فوٹ پانی یہ سب مل کر 54.039 ملین ایکڑ فوٹ بنتا ہے _ اس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہمیں موجودہ نہری نظام کو چلانے اور زیر تعمیر پانی ذخائر کے منصوبوں کے لیے 54.039 ملین ایکڑ فوٹ مزید پانی چاہیے _
دوسری طرف واپڈا کی طرف سے تربیلہ ڈیم بننے کے بعد 78-1977 سے لیکر 23-2022 تک کوٹڑی بیراج سے نیچے جانے والا پانی سراسری طور پر 27.07 ملین ایکڑ فوٹ بتایا گیا ہے اگر ہم سمندر میں جانے والا پانی بھی روک لیں تو بھی ہمیں 26.969 یعنی 27.0 ملین ایکڑ فوٹ مزید چاہیے جو کہ سسٹم میں موجود نہیں ہے اس کا مقصد نئے پانی ذخائر ڈیم بنانے کے لیے ہمارے پاس پانی موجود نہیں ہے۔
وزیر اعظم کی ہدایات کے تحت مغربی دریائوں یعنی سندہو، جھلم اور چناب پر نئے ڈیم بننے چاہئیں۔ کیا ان دریائوں پر کوئی نیا ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔؟ پاکستان کے مایہ ناز آبی ماہر ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق جھلم اور چناب دریاہ کی جاگرافی, جیولاجی اور وہاں کی موسم کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دریائوں پے نہ تو ڈیم بن سکتا ہے اور نہ ہی بنانا چاہیے ۔ چونکہ یہ علائقہ خطرناک زلزلوں کے علائقے میں واقع ہے۔ یہاں پر اب تک 7.6 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ واقع ہوا ہے۔ اگر ریکٹر اسکیل پر 8 یا اس سے زیادہ کا کوئی زلزلہ آیا تو یہاں پر بنا سارا انفرا اسٹریکچر تباہ ہوجائے گا، یہ ہے کہ صرف سندہو دریاہ رہتا ہے جس پر کوئی نیا ڈیم بنایا جاسکے۔
واپڈا نے پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لئے جو ویزن 2025 (Vision 2025) دیا تھا، اس پر نظر دوڑانے سے پتا چلتا ہے کہ سارے کام ہوچکے ہیں ۔ ماسوائے اسکردو ڈیم اور کالاباغ ڈیم کے۔ اسکردو ڈیم دفاع کے نقطہ نظر سے ناقابل عمل بتایا جاتا ہے اور کالا باغ ڈیم اختلافی ہے۔ اس کے خلاف ملک کے چار میں سے تین صوبائی اسیمبلیاں یعنی سندہ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ قرارداد پاس کرچکی ہیں۔ کالاباغ ڈیم کے حق میں صرف پنجاب صوبا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے نئے ڈیم بنانے کی بات، کالاباغ ڈیم کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہاں میں نئے ذخائر کیلئے پانی موجودگی کے سلسلے میں تھوڑی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
نئے ذخائر کے لئے پانی موجودگی کا فیصلہ رم اسٹیشنز پر آنے والا پانی، صوبوں کے موجودہ استعمال کے لیے مختص کئے ہوئے پانی، اس کے ساتھ ساتھ، سرزمین پر بننے والے آبپاشی منصوبوں کے لئے منظور شدہ پانی اور مستقبل میں بننے والے آبپاشی منصوبوں کی لئے پانی کی ضرورت، راستے میں پانی کا نقصان اور کوٹڑی بئراج سے نیچے ماحولیات کے لئے درکار پانی، ان سب باتوں کو سامنے رکھ کر طئے کیا جاتا ہے کہ نئے منصوبے کے لئے پانی موجود ہے یا نہیں۔
میں نے اوپر دیے ہوئے عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے اور ٹیکنیکل کمیٹی 2005 کے حوالے سے اور واپڈا کے اپنے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ ثابت کیا ہے کہ سندھ طاس میں نئے ذخائر کے لیے پانی موجود نہیں ہے۔
اس ساری صورتحال میں ہم عالمی سطح پر آنے والے موسمی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو بھول چکے ہیں۔ عالمی موسمی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گلگت میں گرمی کی موسم میں چوبیس دن کا اور مظفر اباد میں اٹھارہ دن کا اضافہ ہوا ہے۔ (آصم یوسف زئی)۔
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ماؤنٹیس کی سال 2025ء کی رپورٹ کے مطابق ہندو کش _ قراقرم _ ہمالیہ علاقے میں اس سال (نومبر 2024 – مارچ 2025) بہت کم برف باری ہوئی ہے اور یہ کم برف باری کا سلسلہ گزشتہ تین سال سے جاری ہے۔ اس سال پہاڑوں پر 23.6 فیصد معمول سے کم ڑالہ باری ہوئی ہے جو کہ گزشتہ 23 سال میں سب سے کم ڑالہ باری ہے۔ اس موسم میں پہاڑوں پر برف کا نہ جمنے کا نقصان ربیع کے فصل جو کہ پکنے کے مرحلے پر ہوتا ہے اور اگیتی خریف کے فصل کو ہوتا ہے۔ اس سے سندھ میں گندم کی پیداوار کم ہوتی ہے اور کپاس کی فصل وقت پر بوائی نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشئرز تیزی سے پگھلنا شروع ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ عرصہ دریاؤں میں سیلاب کی صورت حال رہے گی۔ اس کے بعد پانی بھاؤ میں کمی واقع ہوگی جس سے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء میں بڑے پیمانے پہ کمی واقع ہوگی۔ انڈس بیس میں گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 2100ء تک ان گلیشیرس میں پندرہ سے ساٹھ فیصد تک کمی واقع ہو جائے گی (قیصر لون)۔
ہندستان کی طرف سندہ طاس معاھدے کی معطلی کا حل معاھدے کے شق IX میں موجود ہے۔اس کے ساتھ شق VII سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک سے زیادہ ملکوں میں بہنے والے دریائوں کے کچھ بین الاقوامی قوانین موجود ہیں۔ جیسا کہ ہیلسنکی معاہدھ 1966 اور اقوام متحدہ کا واٹر کورس کنوینشن۔ اس کے علاوہ پاکستان چاہیے تو یہ معاملا اقوام متحدہ, سارک سربراہ کانفرنس یا شنگھائی کو آپریشن آرگنائیزیشن (SCO) جس کے دونوں ملک میمبر ہیں، اٹھا سکتا ہے۔ اس مسئلے کا حل سیاسی ہے نہ کہ نئے ڈیم بنانا، حکومت کو چاہے کہ سفارتی سطح پر اس مسئلے کو اتنا اجاگر کریں کہ ہندوستان اخلاقی طور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
اگر ہم نے ڈیم بنانے پر اڑے رہے تو پھر اوشنوگرافی کی وہ رپورٹ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر انڈس ڈیلٹا میں پانی نہ چھوڑا گیا تو 2050 میں ٹھٹھہ سجاول بدین اضلاع اور 2060 میں کراچی شہر سمندر دوز ہو جائیں گے حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے۔
اور دوسرا ان منصوبوں کو مکمل کرنے پر خرچه بہت ہوتا ہے اور 15 سے 20 سال لگ جاتے ہیں۔ ہماری ملکی معیشت یہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنی بانی کی کمی سے نپٹنے کے لیے مندرجه زیل باتوں پر دھیان دینا چاہیے۔
1991 کے پانی معاہدے پر من و عن عمل کیا جائے۔- مرکزی پانی پالیسی کے نقطے 10.2 پر سختی سے عمل کیا جائے۔
- آمریکا کی جیالاجیکل سوسائٹی نے اپنی 2022 کی رپورٹ میں انڈس ڈیلٹا کو مردہ قرار دیا ہے۔ انڈس ڈیلٹا کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے دریاہ کو آزاد بہنے دیا جائے۔ اسی لئے انڈس بیسن میں کوئی نیا ڈیم یا کئنال نہ بنایا جائے۔