کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی کی XXI سول/فیملی جج جنوبی کی عدالت نے گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 44 کے تحت ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کشف فاطمہ نامی کم عمر بچی کی غیر قانونی منتقلی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر نانی اور ماموں کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنا دی۔
یہ مقدمہ امام زادی فرزانہ جو بچی کی حقیقی والدہ ہیں، نے اپنے وکیل لطیف ابرہیم ایڈووکیٹ کے معرفت دائر کیا تھا، اور وہ مستقل کسٹڈی اور ملاقات کے حقوق کی درخواست کر رہی تھیں۔ عدالت نے 18 ستمبر 2024 کو ایک عبوری حکم نامے کے ذریعے بچی کی والدہ کو ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے ہفتے کے روز ملاقات کی اجازت دی تھی۔
عدالتی حکم کے مطابق، بچی کو ملاقات کے مخصوص دنوں میں ڈسٹرکٹ کورٹ ساؤتھ کراچی میں والدہ سے ملوانا تھا۔ تاہم، عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ بچی کو والدہ سے ملنے کی اجازت کے بغیر ہی غیر قانونی طور پر نانی (مسز امیرزادی) اور ماموں (سلمان شاہ) کی جانب سے عدالت کی حدود سے باہر منتقل کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ دونوں فریقین نے دانستہ طور پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اور کسی قانونی جواز کے بغیر عدالت کی اجازت کے بغیر بچی کو عدالت کی عملداری سے باہر لے جایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی قانونی عمل میں فریقین اپنی مرضی سے بچے کی کسٹڈی یا رہائش تبدیل نہیں کر سکتے۔
عدالت نے حکم دیا کہ:
- دونوں کو چھ (6) ماہ کی سادہ قید کی سزا دی گئی ہے۔
- متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو حکم دیا گیا ہے کہ دونوں مجرموں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
- کمسن کشف فاطمہ کو فوری طور پر عدالت کی عملداری میں واپس لایا جائے اور اس کی مزید کسٹڈی کے فیصلے عدالت میں کیے جائیں۔
- دونوں ملزمان (مسز امیرزادی اور سلمان شاہ) کو گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 44 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے۔
- آئندہ سماعت 25 جولائی 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کی کاپی جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کو فوری عملدرآمد کے لیے بھیج دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ 21 جولائی 2025 کو جج فہمیدہ ساہووال نے کھلی عدالت میں سنایا۔
سزا پانے والی مسز امیر زادی سندھ کے نامور فائن آرٹسٹ سحر شاہ کی والدہ اور سلمان شاہ ان کے بھائی ہیں۔
یاد رہے کہ 2022ع میں سحر شاہ کے بھائی پارس شاہ حیدرآباد میں اپنی رہائشگاہ سے مردہ پائے گئے تھے، جس پر سحر شاہ نے پارس شاہ کی موت پر قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ان کی بیواہ فرزانہ شاہ اور ان کے رشتہ داروں پر قتل کا الزام لگایا تھا اور اس کے بعد فرزانہ شاہ سے ان کی اکلوتی بیٹی کشف فاطمہ کو مبینہ طور پر دھوکے سے الگ کر کے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔