اسرائیل کے لبنان بھر میں شدید فضائی حملے، 250 سے زائد افراد ہلاک، ہزاروں بے گھر

بیروت(ويب ڈیسک) اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اس جاری تنازع کے دوران فضائی حملوں کی سب سے بڑی لہر تھی جس میں صرف دس منٹ کے دوران حزب اللہ کے سو سے زائد کمانڈ سینٹرز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

فضائی حملوں میں بیروت کے جنوبی مضافات، جنوبی لبنان اور مشرقی بقاع وادی کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے پاکستان کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان میں جاری تباہ کن جنگ بھی شامل ہے۔ پاکستان نے اس جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

لبنان بھر میں اب تک دو سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ جنگ کے باعث بارہ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں ۔

زیادہ تر بے گھر ہونے والے افراد جنوبی لبنان، مشرقی بقاع وادی اور بیروت کے جنوبی مضافات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شیعہ مسلم آبادی کی اکثریت ہے اور جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔

اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد کے قریب کئی دیہات تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ایک سکیورٹی بفر زون قائم کرنا، حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنا اور اس کے جنگجوؤں کو سرحد سے دور دھکیلنا ہے۔ تاہم مبصرین کو خدشہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی کچھ علاقے زیر قبضہ رہ سکتے ہیں اور بہت سے شہری شاید اپنے گھروں کو واپس نہ جا سکیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد لبنانی صدر دفتر نے کہا ہے کہ لبنان کو بھی علاقائی امن میں شامل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

حزب اللہ نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ ایک “بڑی تاریخی کامیابی” کے دہانے پر کھڑی ہے اور بے گھر خاندانوں کو باضابطہ جنگ بندی کے اعلان تک گھروں کو واپس نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔

لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی کی تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے۔ یہ حملے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر تقریباً روزانہ ہونے والی کارروائیوں کے ردعمل میں بھی کیے گئے تھے۔

اسرائیلی حکام پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے باوجود لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تاہم حالیہ دنوں میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی پیش قدمی مزید آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتی اور وہ طاقت کے ذریعے حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے قابل نہیں۔

مبصرین اس تنازع میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیت دیکھ کر حیران ہیں کیونکہ ماضی کی جنگ کے بعد یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ تنظیم کمزور ہو چکی ہے۔ حزب اللہ مسلسل شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کرتی رہی ہے جبکہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ زمینی جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔

لبنان کے اندر حزب اللہ کو شدید تنقید کا بھی سامنا ہے کیونکہ بہت سے افراد تنظیم کو ملک کو ایک غیر ضروری جنگ میں دھکیلنے اور ایران کے مفادات کے دفاع کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، تاہم لبنانی شیعہ آبادی کے ایک بڑے حصے کی حمایت اب بھی تنظیم کو حاصل ہے۔

جنگ کے باعث پیدا ہونے والے بے گھر افراد کے بحران نے پہلے سے معاشی مشکلات کا شکار لبنان پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ کئی اسکولوں کو عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ بہت سے خاندان عوامی مقامات، خیموں اور حتیٰ کہ گاڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

لبنانی حکومت نے 2024 میں جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم تنظیم نے اب تک اپنے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے داخلی تقسیم اور تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد لبنانی حکومت نے پہلی بار براہ راست اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اسرائیل نے اب تک اس پیشکش پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں