خضدار: نوجوان خاتون کے ویڈیو بیان کے چند گھنٹوں بعد والد فائرنگ سے قتل

خضدار/کوئٹہ(ویب ڈیسک)بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک نوجوان خاتون کے تحفظ سے متعلق ویڈیو بیان منظرعام پر آنے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل ہو گئے، جبکہ اہل خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور قانونی تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان کے مقامی ذرائع اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق مقتول کی بیٹی اسما جتک (جنہیں بعض ذرائع اسما بلوچ بھی لکھتے ہیں) نے منگل کو ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی اور اپنے خاندان کی جان کو خطرات لاحق ہونے کا دعویٰ کیا۔

ویڈیو بیان میں اسما نے کہا کہ انہیں 5 فروری 2024 کو خضدار سے اغوا کیا گیا تھا اور اس واقعے میں ظہور جمالزئی ملوث تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اغوا کے دوران ان سے زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں، جنہیں بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس سے ان کی عزت، وقار اور ذہنی سکون متاثر ہوا۔

اسما نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے معاملے کی مکمل تحقیقات اور اپنے خاندان کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے نواب ثناء اللہ خان زہری اور نعمت اللہ خان زہری سے بھی معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

ویڈیو منظرعام پر آنے کے چند گھنٹوں بعد خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اسما کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک جان کی بازی ہار گئے۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر قاتلوں کی شناخت یا قتل کے محرکات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دریں اثنا، بلوچستان کے معروف ادیب عابد میر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ تقریباً دو سے ڈھائی برس قبل اسما جتک کو مبینہ طور پر زبردستی شادی کے مقصد سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اسما کے بھائی نے اس وقت قبائلی عمائدین اور شہریوں کے ساتھ پرامن احتجاج اور دھرنا دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر معاملہ نمایاں ہونے پر ریاستی اداروں نے کارروائی کی اور خاتون کو بازیاب کرایا گیا، تاہم مبینہ ملزم گرفتار نہ ہو سکا۔

عابد میر کے مطابق بعد ازاں ایک جرگہ ہوا، جس میں فریقین کے درمیان صلح ہوئی اور معاملہ ختم کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ویڈیو میں اسما نے دوبارہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ شخص اب بھی ان اور ان کے خاندان پر دباؤ ڈال رہا ہے اور ان کے والد کو دھمکیاں دی گئی تھیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی سماجی حلقوں نے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کی گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں