احسان لغاری
سندھ کے لوگوں کے لیے سندھ کی تقسیم گفت و شنید، بحث یا سودے بازی کا موضوع نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح اور آئینی ہے۔ کیا پاکستان کا آئین بھی اس کی تائید کرتا ہے؟ آئیے اسی بات کو سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے 1973 کے آئین کا آرٹیکل 239(4) کہتا ہے کہ:
’’آئین میں ترمیم کرنے والا ایسا بل، جس سے کسی صوبے کی حدود تبدیل ہوں، صدر کی منظوری کے لیے اس وقت تک پیش نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کے دو تہائی سے کم اکثریت سے منظور نہ کر لیا جائے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی صوبائی اسمبلی کے 100 ارکان ہوں تو ان میں سے کم از کم 67 ارکان کو ایسی کسی بھی ترمیم کی حمایت کرنا ہوگی۔ اس شق کے تحت محض عام اکثریت کی بات نہیں کی گئی، نہ ہی صرف اس وقت موجود ارکان کے ووٹ کافی ہیں۔ شرط صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی منظوری کی ہے۔ اور یہ منظوری اسی صوبے کی اسمبلی سے درکار ہے جس کی حدود تبدیل کی جانی ہوں۔
وفاقی حکومت کا فیصلہ، پارلیمنٹ کی عام اکثریت، کوئی انتظامی حکم یا سیاسی اعلان اس آئینی شرط کو ختم نہیں کر سکتا۔
اور سندھ اسمبلی اس معاملے پر اپنا مؤقف پہلے ہی بالکل واضح کر چکی ہے۔ 21 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی نے وزیراعلیٰ کی پیش کردہ قرارداد کے ذریعے واضح کیا کہ سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جائے گا اور کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے۔ قرارداد کو حکومتی جماعت کے ساتھ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی حمایت بھی حاصل تھی، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔
یوں جس اسمبلی کی رضامندی سندھ کی حدود میں کسی بھی آئینی تبدیلی کے لیے لازمی ہے، وہ اسمبلی اپنا مؤقف پہلے ہی ریکارڈ پر لا چکی ہے۔
سندھ اسمبلی کی کل 168 نشستیں ہیں، جبکہ دو تہائی اکثریت کے لیے 112 ووٹ درکار ہوں گے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس اتنی تعداد موجود نہیں۔ اس تعداد تک پہنچنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ارکان کی اکثریت اور ان چھوٹی جماعتوں کے بھی بڑی تعداد میں ارکان کو اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا جنہوں نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کی حمایت کی تھی۔
لہٰذا سیاسی حساب بھی بالکل واضح ہے اور آئینی حساب بھی۔ سندھ کی تقسیم کے لیے درکار آئینی دروازہ اس وقت بند ہے، اور سمجھنا چاہیے کہ ہمیشہ کے لیے بند ہے۔
وفاقی آئین کا اصول تمام صوبوں کے لیے یکساں ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال خیبر پختونخوا سے بھی سامنے آئی ہے۔ 7 اگست 2026 کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے بعض اضلاع کو وفاق میں شامل کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا۔
یہ قرارداد اس بات کا سیاسی اظہار ہے کہ صوبے کی علاقائی سالمیت کے بارے میں فیصلہ صوبائی رضامندی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مثال سندھ کے معاملے کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اصول ایک ہی ہے۔ اگر کسی صوبے کے علاقے سے کوئی حصہ نکالنے یا اس کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی بات ہو تو یہ محض انتظامی سہولت کا سوال نہیں رہتا، بلکہ صوبے کی آئینی حیثیت اور علاقائی سالمیت کا سوال بن جاتا ہے۔
سندھ کے لیے بھی سوال یہ نہیں کہ کسی کی کراچی کے بارے میں کیا سیاسی رائے ہے۔ اصل آئینی سوال یہ ہے کہ کیا کسی صوبے کی رضامندی کے بغیر اس کی حدود میں تبدیلی کی جا سکتی ہے؟
آئین کا جواب واضح ہے: نہیں، بالکل نہیں!
ریفرنڈم کا راستہ بھی آئینی شرط ختم نہیں کرتا
سندھ کی تقسیم کے حامی اس مقصد کے لیے کچھ غیر واضح راستے تلاش کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک آرٹیکل 48(6) کا حوالہ ہے، جس کے تحت وزیراعظم قومی اہمیت کے کسی معاملے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے بھیج سکتا ہے اور منظوری کی صورت میں ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما، جن میں ڈاکٹر فاروق ستار بھی شامل ہیں، نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں ملک گیر ریفرنڈم کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
لیکن یہاں آئینی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 48(6) ریفرنڈم کا راستہ فراہم کرتا ہے، لیکن یہ آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ ریفرنڈم سیاسی رائے کا اظہار ہو سکتا ہے، لیکن وہ خود آئین کی کسی مخصوص شق کو ختم نہیں کر سکتا۔
آئینی تشریح کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ عام شق کے مقابلے میں کسی مخصوص معاملے سے متعلق مخصوص شق کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ آرٹیکل 48(6) عمومی طور پر قومی اہمیت کے معاملات میں ریفرنڈم کی بات کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 239(4) خاص طور پر صوبے کی حدود تبدیل کرنے سے متعلق ہے اور اس کے لیے متاثرہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری لازمی قرار دیتا ہے۔
لہٰذا اگر سندھ اسمبلی کی مطلوبہ منظوری کے بغیر کسی ریفرنڈم کو سندھ کی حدود تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ غیر آئینی ہوگا۔ کوئی بھی ایسا اقدام آرٹیکل 239(4) کی مخصوص آئینی شرط کو ختم نہیں کر سکتا۔
آرٹیکل 148 اور 149 کا حوالہ
’’کاہے منہ مریم کا، کاہے ٹنڈوالہیار‘‘ کی مثال کی طرح ایک اور راستہ آرٹیکل 148 اور 149 کا حوالہ دے کر پیش کیا گیا ہے۔
جنوری 2026 میں مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالحکومت قرار دے کر ان شقوں کے تحت براہِ راست وفاقی انتظام میں لایا جائے۔
لیکن آرٹیکل 148 اور 149 وفاق اور صوبوں کے درمیان انتظامی اختیارات، تعاون اور مخصوص حالات میں وفاق کی جانب سے صوبوں کو ہدایات سے متعلق ہیں۔ یہ صوبائی حدود کی ازسرِنو تشکیل کی شقیں نہیں ہیں۔
وفاق کو کسی صوبے کے بارے میں انتظامی ہدایت دینے کا اختیار اور کسی صوبے کے علاقے سے کوئی حصہ نکالنا دو مختلف آئینی معاملات ہیں۔
جو کام آئین نے خاص طور پر آرٹیکل 239(4) کے تحت صوبائی اسمبلی کی دو تہائی رضامندی سے مشروط کیا ہے، اسے آرٹیکل 148 یا 149 کے انتظامی اختیارات کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔
صوبے وفاق کی انتظامی شاخیں نہیں
اصل بات یہ ہے کہ آرٹیکل 239(4) محض ایک طریقہ کار کی شق نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے وفاقی معاہدے کے آئینی اظہار کی ایک اہم مثال ہے۔
1973 کا آئین کسی ایک مرکزی اختیار کی طرف سے صوبوں پر مسلط کیا گیا انتظامی دستاویز نہیں، بلکہ وفاق بنانے والی وحدتوں کے منتخب نمائندوں کے ذریعے منظور کیا گیا ایک وفاقی معاہدہ ہے۔
اس کی بنیاد میں یہ تصور موجود تھا کہ صوبے وفاق کے بنیادی تشکیل دینے والے حصے ہیں، نہ کہ وفاق کی بنائی ہوئی انتظامی شاخیں۔
وفاقی نظام میں صوبے آئینی حیثیت رکھنے والی وحدتیں ہیں، جن کے اپنے آئینی حقوق اور اختیارات ہیں۔ مرکز اپنی مرضی سے ان کی علاقائی شناخت یا حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
2010 کی 18ویں آئینی ترمیم نے وفاقی نظام کے اس کردار کو مزید مضبوط کیا۔ وفاقی اور وحدانی نظام کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ وفاق میں صوبے مرکز کی انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ آئینی حقوق اور اختیارات کے ساتھ وفاق میں شامل وحدتیں ہوتے ہیں۔
اگر مرکز کسی صوبے کی علاقائی حیثیت کو اس کی رضامندی کے بغیر تبدیل کرنا شروع کر دے تو یہ محض انتظامی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ وفاق کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے مترادف ہوگی۔
آرٹیکل 239(4) اسی خطرے کے خلاف ایک آئینی حفاظتی دیوار ہے۔
فاٹا کا انضمام: آئینی طریقہ کار کی مثال
اس اصول کا عملی امتحان 2018 کی 25ویں آئینی ترمیم میں بھی ہو چکا ہے، جس کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا اور اس کے نتیجے میں صوبے کی آئینی حدود میں تبدیلی آئی۔
لیکن یہ تبدیلی خیبر پختونخوا اسمبلی کی مطلوبہ دو تہائی منظوری کے بعد ہی آگے بڑھی۔
یعنی آرٹیکل 239(4) بالکل اسی انداز میں نافذ ہوا جس مقصد کے لیے اسے آئین میں شامل کیا گیا ہے: اگر متاثرہ صوبہ رضامند ہو تو علاقائی تبدیلی ممکن ہے، لیکن اگر صوبہ رضامند نہ ہو تو آئینی راستہ بند ہو جاتا ہے۔
27ویں آئینی ترمیم اور آرٹیکل 239(4)
کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ نومبر 2025 کی 27ویں آئینی ترمیم، جس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی اور آئینی معاملات سے متعلق اختیارات اسے منتقل کیے گئے، کیا اس سے آرٹیکل 239(4) کی حیثیت کمزور ہو گئی ہے؟
یہ خدشہ بنیادی طور پر آرٹیکل 239(5) کی اس شق سے منسلک ہے جو عدالتوں کو کسی آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے سے روکتی ہے۔
لیکن یہاں بھی بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
آرٹیکل 239(4) کی شرط آئینی ترمیم کے قانونی عمل کے ابتدائی مرحلے پر لاگو ہوتی ہے۔ اگر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والے بل کو متاثرہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری ہی حاصل نہیں ہے تو وہ آئینی طور پر درست طریقے سے صدر کی منظوری کے لیے پہنچ ہی نہیں سکتا۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ عدالت ایسی ترمیم کو بعد میں مسترد کر سکتی ہے یا نہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا بل مطلوبہ صوبائی رضامندی کے بغیر آئینی طریقے سے صدر تک پہنچ بھی سکتا ہے؟
جواب واضح ہے: نہیں، بالکل نہیں!
نتیجہ
لہٰذا سندھ یا کسی بھی صوبے کی تقسیم کے بارے میں موجودہ آئینی صورتحال میں کوئی ابہام یا گمان نہیں ہونا چاہیے۔
سندھ کے لوگوں کے لیے سندھ کی تقسیم پر بحث ہی نہیں ہو سکتی۔ سندھ اسمبلی بھی اپنا مؤقف دوبارہ ریکارڈ پر لا چکی ہے اور پاکستان کا آئین بھی کہتا ہے کہ سندھ کی آئینی حدود سندھ اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
یعنی سندھ کے عوامی مؤقف اور پاکستان کے آئینی اصول میں کوئی تضاد نہیں؛ دونوں ایک ہی نقطے پر آ کر ملتے ہیں۔
صوبوں کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کتنا ہی زور سے اٹھایا جائے، کتنی ہی سیاسی مہمات چلائی جائیں، ریفرنڈم کی کتنی ہی تجاویز دی جائیں یا انتظامی اختیارات سے متعلق شقوں کے کتنے ہی حوالے دیے جائیں، ایک بنیادی آئینی شرط اپنی جگہ موجود رہے گی:
سندھ اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت کی رضامندی کے بغیر سندھ کی حدود تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
اور یہ رضامندی موجود نہیں۔
اس لیے موجودہ 1973 کے آئینی ڈھانچے کے تحت سندھ کو تقسیم کرنے کا کوئی آئینی راستہ موجود نہیں۔
(جناب احسان لغاری ماہر آبپاشی ہیں، وہ پاکستان میں آبی مسائل، سیاست اور معیشت کے موضوعات پر مختلف سندھی روزناموں میں کالم لکھتے ہیں۔ ان کا یہ مضمون سندھی روزنامہ عوامی آواز کی 10 اگست کی اشاعت میں شائع ہوا جو کہ دی انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ )