سندھ: نفرت کے بیچ محبت کا انتخاب

احسن جعفری
میں ایک ایسے مہاجر خاندان میں پیدا ہوا جس نے 1947ء کے بٹوارے کے بعد چچا غالب کے شہر آگرہ سے ہجرت کی اور سندھ کے شہر روہڑی کو اپنا مسکن بنایا۔ میرے خاندان کی تاریخ بھی اس خطے کے لاکھوں خاندانوں کی طرح ہجرت، جدائی، خوف اور نئے گھر کی تلاش کی تاریخ ہے۔ لیکن میری اپنی فکری زندگی کی کہانی صرف مہاجر ہونے کی کہانی نہیں؛ یہ اس شناخت سے سوال کرنے، اسے طبقاتی شعور کی روشنی میں دوبارہ سمجھنے اور بالآخر سندھ سے محبت کو اپنے شعوری انتخاب کے طور پر قبول کرنے کی کہانی بھی ہے۔

میں نے اپنے اردگرد ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھتے دیکھا جس میں مہاجر ہونا محض ایک تاریخی تجربہ نہیں بلکہ ایک طرح کی نسلی اور تہذیبی برتری کا احساس بن گیا تھا۔ سندھیوں کو پسماندہ، جاہل یا کمتر سمجھنا اور سندھ کو محض ایک ایسی جگہ تصور کرنا جہاں مہاجر آکر آباد ہوئے، اسی سوچ کا حصہ تھا۔ بدقسمتی سے ایک عرصے تک میں بھی اس ذہنیت سے مکمل طور پر آزاد نہ تھا۔

لیکن مارکسزم کے مطالعے نے میرے لیے تاریخ اور سماج کو دیکھنے کا زاویہ بدل دیا۔

مارکسزم نے مجھے یہ سمجھایا کہ انسانوں کے درمیان اصل تضاد ہمیشہ زبان، نسل یا قوم کا تضاد نہیں ہوتا؛ اکثر ان تضادات کے پیچھے معاشی مفادات، طبقاتی طاقت اور وسائل پر قبضے کا سوال موجود ہوتا ہے۔ حکمران طبقات محنت کش انسانوں کو تقسیم کرنے کے لیے کبھی مذہب، کبھی نسل، کبھی زبان اور کبھی قومیت کو استعمال کرتے ہیں۔ جب ایک غریب سندھی اور ایک غریب مہاجر ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے لگیں، تو سب سے زیادہ فائدہ اس طبقے کو ہوتا ہے جو دونوں کی محنت سے دولت پیدا کرتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سندھ کے مسئلے کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

1947ء کے بعد ہندوستان سے آنے والے لاکھوں لوگوں نے سندھ میں پناہ لی۔ سندھ نے، اپنی تاریخی روایت کے مطابق، ان لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ روہڑی، سکھر، کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں نے مہاجر خاندانوں کو جگہ دی۔ ایک اجنبی زمین ان کے لیے گھر بن گئی۔ اس تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے سندھ کے لوگوں کے شکر گزار ہونا بھی۔

لیکن تاریخ کا دوسرا رخ بھی ہے۔

مہاجر آبادی کے ایک حصے نے اس سرزمین کو اپنا نیا وطن بنانے کے بجائے خود کو ایک مستقل سیاسی اور تہذیبی بالادستی کے تصور میں قید کرلیا۔ سندھ کے اصل باشندوں کو کمتر سمجھنا، سندھی زبان اور ثقافت کو پسماندگی سے جوڑنا اور سندھ کے وسائل و اقتدار پر اپنا حق فطری سمجھنا اسی ذہنیت کی مختلف شکلیں ہیں۔

یہاں مارکسی نقطۂ نظر ہمیں ایک اہم سوال دیتا ہے: کیا ایک محنت کش سندھی واقعی ایک محنت کش مہاجر کا دشمن ہے؟

میرا جواب ہے: نہیں۔

دونوں کی اصل مشکلات بہت حد تک ایک جیسی ہیں۔ ایک غریب سندھی کسان جاگیردارانہ استحصال کا شکار ہے، ایک غریب مہاجر مزدور سرمایہ دارانہ استحصال کا شکار ہے، ایک بے روزگار سندھی نوجوان اور ایک بے روزگار مہاجر نوجوان روزگار کی تلاش میں ایک ہی نظام کے سامنے کھڑے ہیں۔ سرکاری اداروں میں نچلے درجے کا ملازم ہو یا فیکٹری کا مزدور، اس کی محنت سے پیدا ہونے والی قدر کا بڑا حصہ بالآخر اس کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔

اس لیے محنت کشوں کو زبان اور نسل کے نام پر تقسیم کرنا دراصل طبقاتی سیاست کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں قومی سوال محض مصنوعی مسئلہ نہیں۔ سندھ کے لوگوں کے اپنے تاریخی، ثقافتی، لسانی اور معاشی حقوق ہیں۔ اپنی زمین، زبان، وسائل اور سیاسی اختیار پر حق مانگنا کسی قوم کی تنگ نظری نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور قومی حق ہے۔ مارکسزم ہمیں محکوم قوموں کے حقِ خود اختیاری اور ان کے قومی سوال کو نظرانداز کرنے کا درس نہیں دیتا؛ بلکہ یہ سمجھاتا ہے کہ قومی جبر اور طبقاتی استحصال ایک دوسرے سے کس طرح جڑ سکتے ہیں۔

اسی لیے میں سندھ کی تقسیم کے کسی منصوبے کو سندھ کے محنت کش عوام کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔ سندھ کو زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے عام سندھی یا عام مہاجر کی زندگی بہتر نہیں ہوگی۔ اس سے نہ بے روزگاری ختم ہوگی، نہ غربت، نہ مہنگائی، نہ جاگیرداری اور نہ سرمایہ دارانہ استحصال۔ البتہ وہ طاقتیں ضرور مضبوط ہوں گی جو عوام کی توجہ اپنے حقیقی معاشی مسائل سے ہٹا کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہیں۔

آج اگر سندھ میں ایک مرتبہ پھر نسلی نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے تو ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی شناختوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گے یا انہیں ایک وسیع تر انسانی اور طبقاتی یکجہتی کا حصہ بنائیں گے۔

میں مہاجر ہوں، اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا۔ میرے خاندان کی جڑیں آگرہ میں ہیں، لیکن میری زندگی کی مٹی سندھ کی ہے۔ میری یادیں سندھ سے وابستہ ہیں، میری زبانوں میں سندھ کی آواز شامل ہے، میرے دکھ اور خوشیاں اس سرزمین کے لوگوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔

اس لیے سندھ سے محبت میرے لیے کسی دوسری قوم سے نفرت کا نام نہیں۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس، سندھ سے محبت کا مطلب ہے اس کے لوگوں کی عزت کرنا، ان کی زبان اور ثقافت کا احترام کرنا، ان کے تاریخی حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ایک ایسے معاشرے کی جدوجہد کرنا جہاں کسی انسان کو اس کی زبان، نسل، ذات یا مذہب کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھا جائے۔

میں اپنے ماضی سے شرمندہ نہیں؛ لیکن میں اپنے ماضی کی ہر سوچ کا دفاع بھی نہیں کرتا۔ انسان کی اصل آزادی شاید یہی ہے کہ وہ اپنے ورثے کو آنکھیں بند کرکے قبول کرنے کے بجائے اسے تنقید کی کسوٹی پر پرکھ سکے۔

میں آگرہ سے آنے والے ایک مہاجر خاندان کا فرد ہوں، مگر آج سندھ کو صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ اپنا وطن سمجھتا ہوں۔

اور اگر سندھ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ میں سندھ کے محکوم، محروم اور محنت کش انسان کے ساتھ کھڑا ہوں، تو میں بلا جھجک کہتا ہوں:

میں سندھ کے ساتھ ہوں۔

سندھ کی تقسیم کے خلاف ہوں۔

نسلی نفرت کے خلاف ہوں۔

اور ہر اس سیاست کے خلاف ہوں جو محنت کش انسان کو دوسرے محنت کش انسان کا دشمن بناتی ہے۔

کیونکہ آخرکار ہماری اصل لڑائی ایک دوسرے سے نہیں، اس نظام سے ہے جو انسانوں کو تقسیم کرکے ان کی محنت پر حکمرانی کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں